ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کسانوں کی طرف سے بھارت بند؛ بھٹکل میں کانگریس نے کیا راستہ روکواحتجاج؛ سرکل پر کانگریس کارکنان کا دھرنا

کسانوں کی طرف سے بھارت بند؛ بھٹکل میں کانگریس نے کیا راستہ روکواحتجاج؛ سرکل پر کانگریس کارکنان کا دھرنا

Mon, 27 Sep 2021 13:08:33    S.O. News Service

بھٹکل 27 ستمبر (ایس او نیوز)   تینوں زرعی  قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے دس ماہ سے احتجاجی دھرنے پر بیٹھے کسانوں نے آج 27 ستمبر کو بھارت بند کا اعلان کیا تھا  جس کی کانگریس نے بھی حمایت کا اعلان کیا تھا، اسی کے چلتے ایک طرف ملک کے تمام  بڑے شہروں میں کسانوں نے ہائی ویز کو جام کرکے احتجاج  کیا تو دیگر علاقوں میں کانگریسی ارکان نے بھارت بند کی حمایت کرتے ہوئے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور کئی جگہوں پر راستہ روکواحتجاج کرتے ہوئے  مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

بھٹکل میں بھی بھارت بند کی مناسبت سے کانگریس نے احتجاجی ریلی نکالی اور شمس الدین سرکل پر کچھ دیر کےلئے دھرنے پر بیٹھ کر  مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور  تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجیوں نے سرکل پر  ٹائر جلاتے ہوئے کچھ دیر کےلئے نیشنل ہائی وے کو بند کردیا۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ  کسانوں کو راحت دینے کا جھوٹا وعدہ کرکے  بی جے پی اقتدار پر پہنچی تھی، مگر آج دس ماہ سے کسان اپنے مطالبات کو لے کر  ملک بھر میں احتجاج کررہے ہیں اور مرکزی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔

بھٹکل بلاک کانگریس کے صدر ایڈوکیٹ  سنتوش نائک نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ  آج بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے بعد ایک طرف کسان پریشان ہیں، وہیں دوسری طرف ملک میں غریب اور خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی اسکول جانے والی معصوم بچیوں سے لے کر خواتین تک پر  ظلم و ستم ڈھانے کے واقعات کی ہر روز خبریں میڈیا میں آرہی ہیں۔ آگے کہا کہ انٹرنیشنل مارکٹ میں  کچے  تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آرہی ہے، مگر ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی آنے کے بجائے، اس میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ گذشتہ دس سالوں سے تیل کی قیمت انٹرنیشنل مارکٹ میں کم ہورہی ہے مگر ملک میں ہر ہفتہ تیل کی قیمت میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے  بڑھتی مہنگائی کے ساتھ ساتھ احتجاج کرنے والے کسانوں پر لاٹھی چارج کرنے پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ سنتوش نائک نے اعلان کیا کہ  کانگریس پارٹی کسانوں کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے اسی طرح بھارت بند کےلئے بھی کانگریس  کسانوں کے ساتھ  ہے۔ سنتوش نائک نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ  بھارت بند کے  باوجود بھی بی جے پی سرکار تینوں زرعی قوانین کو واپس نہیں لیتی اور مہنگائی سے پریشان عوام کو راحت نہیں  دیتی    تو پھر ملک کے تمام لوگوں کو سڑک پر اُتر کر  مزید  بڑے پیمانے پر احتجاج کرنا پڑے گا۔ اس موقع پر ماہی گیر سنگھا کے اہم لیڈر راما موگیر،  ضلع پنچایت کی سابق صدر جئے شری موگیر،  کانگریس کے اقلیتی مورچہ کے صدر  عبدالمجید و دیگر نے بھی اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ 

تعجب کی بات یہ رہی کہ  کانگریس کی جانب سے آج بھارت بند کی حمایت کا اعلان کئے جانے کے باوجود بھٹکل میں بھارت بند کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا، دکانیں معمول کی مطابق کھلی رہیں، سڑکوں پر  سواریوں کی آمد ورفت میں بھی کوئی خلل نہیں پڑا، البتہ صبح قریب دس بجے کچھ لمحوں کے لئے کانگریس کی جانب سے  شمس الدین سرکل پر  احتجاجی دھرنا کے دوران ہی کچھ لمحوں کےلئے ٹریفک نظام متاثر ہوا تھا۔

صبح قریب 9:45 بجے  کانگریسی کارکنان  سرکل کے قریب واقع پٹرول بنک پر جمع ہوئے، وہاں سے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شمس الدین سرکل پر پہنچ کر دھرنے پر بیٹھ گئے اور راستہ روکو احتجاج کیا، اس دوران کچھ دیر کےلئے ٹریفک نظام  رُک گیا، مگر بعد میں بھٹکل ڈی وائی ایس پی  بیلی ایپّا اور سرکل پولس انسپکٹر دیواکر سمیت دیگر پولس اہلکاروں نے ہائی وے پر پائی گئی رکاوٹوں کو ہٹاتےہوئے ٹریفک نظام کو درست کیا۔ یہاں سے احتجاجیوں نے  پرانے اے سی دفتر تک ریلی نکالی، پھر وہاں سے مُڑ کر واپس پٹرول بنک پر پہنچ کر احتجاج کو  ختم کیا۔

پتہ چلا ہے کہ کسانوں کی طرف سے اعلان کردہ بھارت بند پر ضلع اُترکنڑا کے کاروار اور منڈگوڈ میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور تینوں زرعی  قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح  پڑوسی ضلع اُڈپی اور بیندور میں سمیوکتا ہوراٹا  کرناٹک،( اُڈپی شاخ)  کی طرف سے اور مینگلور میں ایس ڈی پی آئی کی طرف سے کسانوں کی حمایت میں زبردست احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، اور تینوں زرعی قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ۔

 


Share: