نئی دہلی20نومبر(آئی این ایس انڈیا) کسانوں کی تحریک پہلے کی طرح جاری رہے گی۔ متحدہ کسان مورچہ کے رکن اورکسان لیڈر یوگیندر یادو نے ہفتہ کو یہ جانکاری دی ہے۔ یوگیندر یادونے کہاہے کہ 22 نومبر کو لکھنؤ میں ہونے والی کسان مہاپنچایت بھی اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد کی جائے گی۔ یہی نہیں 29 نومبر کو طے شدہ شیڈول کے مطابق کسان پارلیمنٹ مارچ کے پلان کوبھی منسوخ نہیں کریں گے۔ یوگیندر یادو کسان مورچہ کی کورکمیٹی کے رکن ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا۔ متحدہ کسان مورچہ کے رہنماؤں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا، لیکن کہا تھاکہ وہ دہلی کی سرحد پر اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک زرعی قوانین کو واپس لینے کے فیصلے پر مہر نہیں لگ جاتی۔ کسانوں نے اشارہ دیا ہے کہ ایم ایس پی پرقانونی ضمانت اوربجلی ترمیمی بل جیسے مسائل پران کا احتجاج جاری رہے گا۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کسان زیر التوا مسائل پر حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔متحدہ کسان مورچہ تقریباً ایک سال سے دہلی کی سرحدوں پر تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہا ہے۔ لیکن پی ایم مودی نے کل اعلان کیا کہ حکومت کچھ کسان تنظیموں کو ان قوانین کے فوائد کی وضاحت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے ان قوانین کو واپس لینے کا عمل پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں شروع کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔تاہم اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے یوپی اور پنجاب اسمبلی انتخابات میں شکست کے خوف سے زرعی قوانین کو واپس لینے کا قدم اٹھایا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، ایس پی سپریمو اکھلیش یادو سمیت کئی اپوزیشن لیڈر اس معاملے کو لے کر حکومت کو گھیر چکے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے لکھیم پور کھیری واقعہ میں گھرے مرکزی وزیر اجے مشرا کے استعفیٰ کا مطالبہ پھر اٹھایا ہے۔