ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کس نے نمٹائے عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی؟ سابق سکریٹری شرما کی کتاب میں انکشاف

کس نے نمٹائے عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی؟ سابق سکریٹری شرما کی کتاب میں انکشاف

Thu, 07 Jun 2018 12:09:44    S.O. News Service

نئی دہلی:6 ؍جون (یو این آئی) دہلی میں پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری کو لے کر مچے ہنگامے پر آئی ایک کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ خودساختہ ماہرین اور ناتجربہ کار مشیروں کی آدھی ادھوری اور نیم پختہ رائے کی وجہ سے نہ صرف یہ تقرریاں منسوخ ہوئیں بلکہ حکمراں عام آدمی پارٹی ( آپ) کے20 ؍ممبران اسمبلی کی رکنیت پر بھی بن آئی۔

لوک سبھا اور دہلی اسمبلی کے سابق سکریٹری ایس کے شرما نے اپنی آنے والی کتاب’دہلی حکومت کے پارلیمانی سکریٹریز کا سچ (انسائیداسٹوری) میں دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے میں مشورہ دینے والے ماہر اور مشیر کو دہلی کی قانونی اور آئینی حدود، طاقتوں، روایات اور اس کے پارلیمانی امور کے پس منظر کا مکمل علم نہیں تھا۔نتیجے میں نیم پختہ مشورہ پر پارلیمانی سکریٹری مقررکئے گئے اور20 ؍ممبران اسمبلی کی رکنیت پر بن آئی۔ کتاب میں اس سلسلے میں کسی کا نام نہیں لیا گیا ہے ، لیکن ایک سینئر کمیونسٹ لیڈر اور پارلیمنٹ سکریٹریٹ کے ایک وظیفہ یاب سینئر افسر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔

کتاب میں’کس نے نمٹائے عام آدمی پارٹی کے20ممبر اسمبلی‘ کے عنوان سے ایک باب میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری سے پہلے آپ کی قیادت نے بائیں بازوکے کسی ماہر کا نام تجویز کرنے کی اپیل کی اور ان کی سفارش پر پارلیمنٹ سکریٹریٹ کے ایک سینئر افسر کی ’ایکسپرٹ رائے‘ لی گئی۔مصنف کا کہنا ہے کہ اس ماہر کو حالات کا علم تو تھا لیکن وہ پارلیمنٹ کے بارے میں اور مکمل اختیارات والی ریاستوں اور ان کے قانون سازی کے تناظر میں تھا نہ کہ آئینی دفعات کے تحت قائم دہلی جیسی خاص اور محدود طاقت کی منفرد انتظامات کے سلسلے میں۔ ان کا خیال ہے کہ پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری کے سلسلے میں کم از کم 6 یا 7 ایسے نکات ہیں جن پر’ایکسپرٹ مشورہ‘میں پختگی اور موضوع کے علم کا فقدان واضح جھلکتا ہے ۔

دہلی حکومت کی طرف سے مارچ 2015 میں 21؍پارلیمانی سکریٹریوں کے عمل کو کتاب میں غیر قانونی بتاتے ہوئے کہا گیا کہ یہ تقرریاں ایسے کی گئیں گویا یہ حکومت میں نہ ہوکر کسی سیاسی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہو۔ اس فیصلہ کو پوری طرح خفیہ رکھا گیا اور پارٹی اور گورنر ہاؤز کو اس کی بھنک نہیں لگنے دی گئی۔ یہاں تک کہ کابینہ سے بھی منظوری نہیں لی گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی ہائی کورٹ نے تقرریوں کے احکامات کو اگست 2017 میں منسوخ کر دیا۔ بعد میں یہ معاملہ الیکشن کمیشن پہنچا جس نے معاملے پر گہری بات چیت کے بعد پارلیمانی سکریٹری بنائے گئے ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔حالانکہ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت پر کمیشن اس معاملے پر دوبارہ غور کر رہا ہے ۔

کتاب کے مطابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے 26 ؍فروری 2015 کو ممبران اسمبلی کے ناموں کے ساتھ وزیر اعلیٰ کے دفتر کو بھیجے نوٹ میں لکھا’’یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان ممبران اسمبلی کو ان کے سامنے دیئے گئے وزراء کا پارلیمانی سکریٹری مقرر کر دیا جائے‘ ‘ ۔ مصنف کے مطابق اس نوٹ سے صاف تھا کہ پارلیمانی سکریٹریز کا مقرر کرنے کا فیصلہ’پردے کے پیچھے‘ لیا جا چکا تھا۔وزیر اعلیٰ کے سکریٹری نے چالاکی دکھاتے ہوئے اسے ایک تجویز قرار دیا اور وزیر اعلیٰ سے اس تجویز کو منظوری دینے کی اپیل کی اور وزیر اعلیٰ کی طرف سے منظوری دے دی گئی۔

یہ فیصلہ کس نے لیا، کب لیا، کیوں لیا، کس بنیاد پر لیا گیا، پارلیمانی سکریٹری کیا کام کرے گا، کیا ذمہ داری نبھائے گا اس پر کہیں ذکر اور بحث نہیں کی گئی۔دستیاب ریکارڈمیں بھی اشارہ ہے کہ پارلیمانی سکریٹری بنائے گئے ممبران کا نہ تو بایو ڈاٹا مانگا گیا اور نہ ہی انٹرویو ہوا، نہ ان کی قابلیت، تعلیم، سابق قانون سازی یا انتظامی تجربے ، محکمہ جاتی کام میں دلچسپی وغیرہ پیمانہ بنا۔ براہ راست ایک یا دو نہیں بلکہ 21؍نام علاحدہ کر کے انہیں پارلیمانی سکر یٹری بنا دیا گیا۔ مصنف نے دستاویزات کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے خود لیا تھا اور صرف3؍ افراد، اسمبلی اسپیکر، نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری کو اس کی جانکاری تھی۔

کتاب میں کہا گیا کہ دہلی حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ پارلیمانی سکریٹری کے عہدہ پر فائز کرکے ان ممبران کو کسی بھی قسم کی تنخواہ، الاؤنس یا مالی فائدہ نہیں دیا گیا۔ ان ممبران نے بھی ا لیکشن کمیشن میں حلف نامہ دے کر کہا ہے کہ انھوں نے حکومت سے کسی قسم کا فائدہ نہیں لیا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ان لوگوں پر کئی قسم کے ’فوائد‘ کی بارش ہوئی جن کے آئین اور قانون اجازت نہیں دیتے ۔


Share: