بنگلورو۔8؍اکتوبر(ایس او نیوز) ریاست کے تین لوک سبھا اور دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں کانگریس پارٹی کی قیادت ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عام طور پر انتخابات کا سامنا کرنے کے لئے پارٹی کی قیادت ریاستی کانگریس صدر نبھاتے ہیں ، لیکن ذرائع کی مانیں تو اس مرتبہ کانگریس نے ان ضمنی انتخابات کے سلسلے میں قیادت سنبھالنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق تمام لیڈر ضمنی انتخابات کی قیادت نبھانے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ ضمنی انتخابات کی قیادت کرنے تیار نہیں۔ جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انتخابات کا سامنا کرنے وسائل کی کمی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پر میشور اپنی وزارت کے کاموں میں مصروف ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ضمنی انتخابات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
رابطہ کمیٹی کے چیرمین سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کسی بھی طرح کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ وہ اپنی بے بسی ظاہر کررہے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان ضمنی انتخابات کا سامنا کرنے کانگریس پارٹی کے پاس رقم نہیں ہے۔ ایسے میں کس سے پوچھا جائے یا کون ذمہ داری نبھائے اس سوال کا جواب ڈھونڈا جارہا ہے۔ خبر ملی ہے کہ دنیش گنڈو راؤ نے پرمیشور سے اپنی بے بسی کا اظہار کردیا ہے۔ وزیر آبی وسائل واعلیٰ تعلیمات ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ انکم ٹیکس چھاپوں کے سبب وہ خود کنگال ہوچکے ہیں، لہٰذا رقم اکٹھا کرنا ان کے لئے مشکل ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ پرمیشور کو شکایت ہے کہ سرکاری سطح پر کچھ کام نہیں ہورہے ہیں، اور دیگر کانگریس وزراء کی بھی یہی شکایت ہے۔ ایسے میں رقم حاصل کرنا دشوار مرحلہ بن گیا ہے۔ کانگریس میں رقم جمع کرنا ہی ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، جس کے سبب کوئی بھی لیڈر ضمنی انتخابات کے قیادت کی ذمہ داری نبھانے تیار نہیں ہے۔ لہٰذا بلاری ، منڈیا، شیموگہ لوک سبھا اور رام نگرم ، جمکھنڈی اسمبلی انتخابات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ کہنا ابھی دشوار ہے۔