ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا میں آج ہوگا فیصلہ؛ کیا وزیراعلیٰ یڈی یورپا اکثریت ثابت کرپائیں گے ؟ مینگلور میں امتناعی احکامات

کرناٹکا میں آج ہوگا فیصلہ؛ کیا وزیراعلیٰ یڈی یورپا اکثریت ثابت کرپائیں گے ؟ مینگلور میں امتناعی احکامات

Sat, 19 May 2018 08:04:38    S.O. News Service

بنگلور19/مئی (ایس او نیوز) کرنا ٹکا  اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعدسے شروع ہوا  ریاست میں  اقتدار  کا گھماسان  سنیچر کو اپنے انجام تک پہنچنے کی توقع ہے۔ شام چار بجے یڈی یورپا سرکار اپنی اکثریت ثابت کرنے کا امتحان دیں گے جس   کے بعد اتنے دنوں سے چل رہی سیاسی سرگرمیاں کم ہونے کی توقع ہے۔ اُدھر اکثریتی ٹیسٹ سے پہلے ساحلی شہر مینگلور میں احتیاطاً امتناعی احکامات دفعہ 144 نافذ کیا گیاہے۔

بتایا گیا ہے کہ کرناٹک اسمبلی میں آج ہونے والے فلور ٹیسٹ کے دوران سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کے درمیان  جھڑپ ہونے کے خدشہ کے پیش نظر سٹی پولس کمشنر ویپول کمار نے احتیاط کے طور پر مینگلور شہری حدود میں دفعہ 144 نافذ کیا ہے۔ جاری کردہ احکام کے مطابق  آج 19 مئی کو صبح 8 بجے سے کل 20 مئی صبح دس بجے تک  شہر میں امتناعی احکامات نافذ رہیں گے، جس کے تحت پانچ یا پانچ  سے زائد لوگوں کے ایک جگہ پر جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی  ہے۔

خیال رہے کہ امتناعی احکامات کے چلتے کسی بھی سیاسی پارٹی کے کارکنوں کو احتجاج کرنے یا گروپوں کی شکل میں سڑکوں پر نکلنے پر مکمل پابندی رہے گی۔

یاد رہے کہ  سپریم کورٹ نے بی ایس یڈی یورپا کو سنیچر شام چار بجے تک اپنی اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم  کانگریس اور جے ڈی ایس کی طرف سے درج کردہ درخواستوں پر طویل بحث کے بعد دیا ہے. دونوں پارٹیاں کرناٹکا  کے گورنر وجو بھائی والاکے اس فیصلے  کے خلاف سپریم کورٹ گئے تھے  جس میں انہوں نے بی جے پی کو سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطے حکومت بنانے کے لئے مدعو کیا تھا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ  کرناٹک اسمبلی کے انتخابات میں، بی جے پی نے 104 سٹیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بن گئی تھی، مگر بی جے پی کے پاس اکثریتی ہندسہ 112 سیٹیں نہیں تھی اور وہ  جادوئی ہندسہ  سے کچھ قدم دور تھی۔ انتخابی نتائج ظاہر ہونے کے بعد کانگریس اور جے ڈی  ایس نے گٹھ بندھن کرلیا اور دونوں نے  اپنےپاس کل  117 ایم ایل اے کی حمایت ہونے کے دم پر  حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا۔

کانگریس اور جے ڈی ایس کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کئے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ یڈی یورپا آج سنیچر شام چار بجے اپنی اکثریت ثابت کریں، جس  کے لئے ایک عبوری اسپیکر مقرر کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

اُدھر کرناٹک کے گورنر نے بی جے پی کے رکن اسمبلی اور آر ایس ایس سے منسلک  کے جی بوپیا  کو عبوری   اسپیکر مقرر کیا، جس کے تعلق سے بھی کانگریس نے سخت اعتراض کیا ہے اور  بوپیا کو عبوری اسپیکر مقرر کرنے پر اسے  دستور کے خلاف بتایا ہے ۔ کانگریس نے  بوپیا کو عبوری اسپیکر بنانے کے خلاف  سپریم کورٹ کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا ہے  اور فوری فیصلہ سنانے کی درخواست کی ہے۔ کانگریس کے وکیل دیودت کامتھ  نے بتایا کہ کانگریس اور جے ڈی  ایس نے کے جی بوپیّا کو عبوری اسپیکر بنانے کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ بوپیّا  کو عبوری اسپیکر  بنایا جانا پوری طرح دستور کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ میں سنوائی کے لئے آج سنیچر صبح 10:30 بجے کا وقت طئے کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں کانگریس نے  درخواست داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ  بوپیا کی تقرری  کو خارج کیا جائے  اور پارلیمانی روایت کے تحت، سب سے سینئر رکن کو عبوری اسپیکر بنایا جائے. کانگریس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آیوگ  ممبر کو بھی بحال کرایا  جا سکتا ہے، جبکہ عبوری اسپیکر صرف حلف دلا سکتا ہے اور فلور  ٹیسٹ کرا سکتا ہے. کانگریس کا کہنا ہے کہ قوانین  کے مطابق سب سے  سینئر ممبران کو ہی عبوری  اسپیکر بنایا  جاتا ہے، لیکن گورنر نے بوپیّا   کو عبوری  اسپیکر بناکر  قوانین کی خلاف ورزی کی ہے. کانگریس کا کہنا ہے کہ کیونکہ سب سے زیادہ سینئر رکن اسمبلی  (آر وی دیش پانڈے) اُن کی (یعنی کانگریس ) پارٹی سے آتے ہیں اس لئے اُنہیں نظر انداز کرکے بو پیا  کو عبوری  اسپیکر بنایا  گیا ہے.

خیال رہے کہ کرناٹکا  اسمبلی میں سنیچر کو ہونے والے اکثریت کو ثابت کرنے والے ٹیسٹ کے لئے گورنر نے عبوری اسپیکر کے طور پر بی جے پی ایم ایل اے کے جی بوپیا کا  تقرر کیا گیا ہے، اس سے پہلے کانگریس رکن اسمبلی دیش پانڈے اور  بی جے پی کے اُمیش کُٹّی  کا نام اس کے لئے سب سے آگے چل رہا تھا۔


Share: