اقلیتوں کیلئے پچھلے سال کے مقابلے 260 کروڑ کا اضافہ، وقف املاک کی تحفظ کا اعلان
بنگلورو،5؍مارچ (ایس او نیوز) وزیراعلیٰ بسوراج بومئی نے ریاستی اسمبلی میں اپنا پہلا ریاستی بجٹ پیش کیا جس میں میکے ڈاٹو پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے -بجٹ میں اس اعلان کے ساتھ ہی پڑوسی ریاست تملناڈو کی ناراضی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے -
بومئی جن کے قبضہ میں فائنانس کا بھی قلمدان ہے، نے سال برائے 2022-23 کیلئے 2,65,720 کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا ہے -اس بجٹ میں کسی بھی ٹیکس میں اضافہ کی کوئی تجویز نہیں ہے - اس مرتبہ حکومت نے کمرشیل ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ 77,010 کروڑ روپئے کی وصولی کا نشانہ مقرر کیا ہے -جبکہ اسٹامپس اور رجسٹریشن سے 15 ہزار کروڑ،محکمہ آبکاری سے 29 ہزارکروڑ روپئے اورمحکمہ ٹرانسپورٹ سے 8,007 کروڑ روپئے وصولی کا نشانہ مقرر کیا ہے - اس سے جملہ آمدنی 2,61,977 کروڑ روپئے ہوگی- حالانکہ 72,089 کروڑ روپئے عوام پر قرضہ ہے-جملہ آمدنی 2,61,977 کروڑ روپئے ہوگی-یہ بجٹ 3,743 کروڑ کے خسارہ والا بجٹ ہے - بومئی نے اعتراف کیا ہے کہ کووڈ وباء سے ریاست کی معیشت پر کافی اثر پڑا ہے -ریاست میں معاشی سرگرمیوں کی سدھار کیلئے بومئی نے 55,657 کروڑ روپئے کا اعلان کیا ہے -بومئی حکومت نے بچوں کی مجموعی ترقی کیلئے 40,944 کروڑ روپئے کا اعلان کیا ہے -
اقلیتوں کے فنڈ میں اضافہ: وزیراعلیٰ بومئی نے پچھلے سال کے مقابلے اقلیتوں کے فنڈ میں 260 کروڑ روپئے کا اضافہ کیا ہے -پچھلے سال ایڈی یورپا حکومت نے اقلیتوں کیلئے 915.63 کروڑ روپئے فراہم کئے تھے جس کا مکمل استعمال بھی نہیں ہوا-اس مرتبہ بومئی نے اقلیتوں کیلئے 1975.18 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں جس میں عیسائیوں کی ترقی کیلئے 50 کروڑ، جین سکھ اوربدھسٹ کی ترقی کیلئے 50 کروڑ روپئے بھی شامل ہیں -بومئی نے اپنی بجٹ تقریر میں خصوصیت کے ساتھ وقف املاک کے تحفظ کا اعلان کیا ہے، اور کہا کہ ان کی حکومت وقف املاک کے ناجائز استعمال کو روکنے کی پابند ہے -اس کیلئے بجٹ میں 12 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں جبکہ پچھلے سال یہ فنڈ 15.50 کروڑ روپئے تھا-
بجٹ میں کہا گیا ہے کہ کرناٹکا اردو اکادمی کے زیراہتمام نامور کنڑا ادیبوں کی تحریرکا اردو میں ترجمہ کروایا جائے گا- اکادمی کے لئے ایک کروڑ روپئے فراہم کئے گئے ہیں -پچھلے سال بھی اتنی ہی رقم مختص کی گئی تھی -باقاعدہ کمیٹی نہ ہونے کی وجہ سے اس رقم کا بھی استعمال نہ ہوسکا- فٹ پاتھ پر تجارت کرنے والوں،ٹھیلہ گاڑیوں،گل فروش، پھل اور سبزیاں فروخت کرنے والے اورآٹو ڈرائیورس جو کے ایم ڈی سی سے اندراج کرائیں گے ان کیلئے نیشنل اورروٹی منشن کے تحت مالی مدد فراہم کی جائے گی-اقلیتی طبقات کے جھونپڑپٹی علاقوں کی ترقی کیلئے ایک خصوصی اسکیم مرتب کی جائے گی -
وزیراعلیٰ نے کہاکہ مرار جی دیسائی اقامتی اسکولوں کا نام بدل کر اے پی جے عبدالکلام اقامتی اسکولس کردیا جائے گا- ان اسکولوں کیلئے سی بی ایس سی اکریڈیشن حاصل کرنے کارروائی کی جائے گی- ان اسکولوں کی ترقی کیلئے 25 کروڑ مختص کئے گئے ہیں -وزیراعلیٰ نے اپنی بجٹ تقریر میں مائنارٹی سے متعلق چند اسکیموں کا ذکر کیا ہے لیکن فنڈ کتنا فراہم کیا جائے گا اس کا ذکر نہیں کیا، سوائے عیسائیوں اور جین سکھ اور بدھسٹوں کے -فنڈ فراہم کئے جانے کی تفصیلات بجٹ اخراجات تخمینہ سے لی گئی ہیں -اقلیتوں کی ودیانتری اسکیم کیلئے 25 کروڑ اور اقلیتی امیدواروں کو مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کیلئے 5 کروڑ مختص کئے گئے ہیں، پچھلے سال اتنی ہی رقم فراہم کی گئی تھی- مدارس میں معیاری تعلیم فراہم کرنے گرانٹ ان ایڈ کی شکل میں 8کروڑ،مولانا آزاد اسکولوں کی مجموعی ترقی کیلئے خاطر خواہ رقم مختص کی گئی ہے-پچھلے سال کی طرح ریاستی اقلیتی کمیشن کیلئے امسال بھی ایک کروڑ مختص کئے گئے ہیں -
کرناٹکا وقف بورڈ کیلئے امسال بھی 20.24 کروڑ روپئے فراہم کئے گئے ہیں - امام اور مؤذنین کی تنخواہ کیلئے اضافہ بھی 55 کروڑ مختص کئے گئے ہیں جبکہ تعداد میں اضافہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی -حج بھون کیلئے پچھلے سال بھی فنڈ مختص نہیں کیا گیا تھا، امسال بھی فنڈ نہیں دیا گیا ہے - اقلیتوں کیلئے ہاسٹلوں، رہائشی اسکولوں اور کنونشن سنٹروں کی تعمیرکیلئے دوسو کروڑ روپئے فراہم کئے گئے ہیں - پچھلے سال بھی اتنی ہی رقم مختص کی گئی تھی - اس مرتبہ وزیراعلیٰ نے اقلیتوں کے فنڈ میں 260 کروڑ روپئے کا اضافہ کیا ہے اور دو تین نئی اسکیموں کا اعلان بھی کیا ہے -بومئی جو ایک انجینئر ہیں،نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) کی طرح کرناٹک کے 7 /انجینئرنگ کالجوں کو ترقی دینے کا اعلان کیا ہے -اس کیلئے حکومت غیرملکی یونیورسٹیوں سے اشتراک کرے گی -
وزیراعلیٰ نے مہادائی پراجیکٹ کیلئے ایک ہزار کروڑ اور بنگلور میں بنیادی ڈھانچوں کی ترقی کیلئے 6 ہزار کروڑ مختص کئے ہیں -بومئی نے اپنی بجٹ تقریر میں ریاست کے دوفیصد عیسائی طبقہ اور ایک ایک فیصد جین،سکھ اور آدھا فیصد سے کم بدھسٹ طبقہ کا ذکر کیا ہے -لیکن ریاست کی 15 فیصد مسلم آبادی کا کہیں ذکر تک نہیں - ڈرون اورماڈرن ٹیکنالوجی کے استعمال سے اوقافی املاک کا سروے مکمل کرنے کا بھی بومئی نے اعلان کیا ہے تاکہ وقف املاک پر ناجائز قبضوں کو روکا جائے -