ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس -جے ڈی ایس کے تمام وزراء مستعفی دوبارہ وزیراعلیٰ بننے سدارامیا کا منصوبہ کامیاب ہوگا؟نگاہیں اسمبلی اسپیکر کے فیصلے پر مرکوز

کانگریس -جے ڈی ایس کے تمام وزراء مستعفی دوبارہ وزیراعلیٰ بننے سدارامیا کا منصوبہ کامیاب ہوگا؟نگاہیں اسمبلی اسپیکر کے فیصلے پر مرکوز

Tue, 09 Jul 2019 11:35:05    S.O. News Service

بنگلورو،9؍جولائی (ایس او نیوز) ریاستی کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کو درپیش سیاسی بحران ابھی برقرار ہے۔اتحاد کو بچانے کے لئے کانگریس۔ جے ڈی ایس کے تمام وزراء نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کمار سوامی کی قیادت والی حکومت گرجائے گی یا بحال ہوگی ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اس سیاسی بحران پر قابو پانے اور ریاست میں ایک مثبت حکومت کے قیام کے لئے سابق وزیراعلیٰ سدارامیا کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنانے سابق وزیراعلیٰ کے طرفدار اور سدارامیا کے حامی قائدین نے مطالبہ کیا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سدارامیا کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنانے کے لئے انہیں کی ایماء پر یہ سب ڈرامہ رچاگیا ہے۔ اب جب کہ کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کو بچانے کے لئے وزیراعلیٰ کمار سوامی نے خود وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑنے کی پیش کش کی ہے تو استعفیٰ دینے والے کانگریس کے کئی اراکین اسمبلی جو سدارامیا کے حامی ہیں ممبئی سے واپس آکر اپنے استعفےٰ واپس لینے کے لئے تیار ہوگئے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کمار سوامی کی قیادت والی مخلوط حکومت کی پچھلے 13/مہینوں کی کارکردگی صفر ہے۔ تمام ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔ اس لئے مخلوط حکومت میں ساجھیدار پارٹیوں کے اکثر اراکین اسمبلی قیادت کی تبدیلی کے حق میں ہیں - 

تمام وزراء مستعفی: 13/ماہ پرانی ریاستی مخلوط حکومت بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کی پیش کش کرنے والے باقی اراکین اسمبلی کو کابینہ میں شامل کرنے کا موقع دینے کانگریس کے تمام 21/ریاستی وزراء نے آج رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیا۔ اس کے ساتھ وزیراعلیٰ کی ایماء پر جے ڈی ایس کے تمام 9/وزراء نے بھی اپنے استعفیٰ پیش کردیئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے دفتر سے اطلاع ملی ہے کہ بہت جلد ریاستی کابینہ کی از سر نو تشکیل عمل میں آئے گی۔ وزیراعلیٰ کے دفتر نے ٹویٹ پر یہ تشہیر کی ہے۔حال ہی میں جن دو آزاد اراکین اسمبلی آر۔ شنکر اور ناگیش کو کابینہ میں شامل کیاگیا تھا۔ ان دونوں نے بھی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ حکومت کو بچانے کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد کی یہ جدوجہد کامیاب ہوگئی تو پوری کابینہ کی از سر نو تشکیل ہوگی۔ کابینہ میں باغی اراکین اسمبلی کو ترجیح دیئے جانے کا امکان ہے ان کے بعد اب تک جن اراکین اسمبلی کو شامل نہیں کیاگیا تھا نہیں ترجیح دی جائے گی-

نائب وزیراعلیٰ کے گھر پر اجلاس: ریاست کے سیاسی بحران پر تبادلہ خیال کرنے نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی۔ پرمیشور کی رہائش گاہ پر آج صبح ناشتہ پر تمام کانگریس وزراء کی ایک میٹنگ طلب کی گئی تھی۔ اس اجلاس میں سدارامیا اور اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اوردیگرنے شرکت کی۔ اس کے بعد وینوگوپال نے بتایا کہ پارٹی کے اجتماعی مفاد میں ہم نے کل اور آج پارٹی کے سینئر لیڈروں اور وزراء کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر آج صبح بھی ہم نے پارٹی کے وزراء سے ملاقات کی تو تمام ہی پارٹی اور مخلوط حکومت کو بچانے رضاکارانہ طور پر اپنے استعفیٰ پیش کرنے کے لئے تیارہوگئے۔ نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مستعفی ہونے والے وزراء نے موجودہ حالات میں ضروری کارروائی کا اختیار پارٹی کو دے دیا ہے۔ کابینہ میں رد وبدل کرنا ہے یا از سر نو تشکیل دینا ہے یہ فیصلہ پارٹی پر چھوڑ دیاگیا ہے۔ ان تمام وزراء کا وینوگوپال نے شکریہ ادا کیا ہے۔ سی یل پی لیڈر سدارامیا نے بھی کہاہے کہ کانگریس کے تمام وزراء نے رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوکر کابینہ کی از سر نو تشکیل دینے پارٹی کو مکمل اختیارات دے دیئے ہیں۔ مخلوط حکومت کا سیاسی بحران اس وقت شدت اختیارکیا جب 10/کانگریس کے اور تین جے ڈی ایس کے اراکین اسمبلی نے ایک ساتھ استعفیٰ دے دیا۔ آج کرناٹک کے وزیر اور آزاد ایم ایل اے ایچ ناگیش نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے کر کمار سوامی کی قیادت والی حکومت سے اپنی تائید واپس لے لی۔ ان استعفوں کو اگر اسپیکر نے منظور کرلیا تو کمار سوامی حکومت ایوان میں اپنی اکثریت کھودے گی۔ استعفیٰ دینے والے جملہ 13/اراکین اسمبلی میں سے دس اراکین ممبئی کی ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہیں۔ وینوگوپال نے کہاکہ پارٹی ناراض اراکین اسمبلی کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے لئے تیار بشرطیکہ وہ بنگلورواپس لوٹ آئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ بہت جلد شہر واپس لوٹ آئیں گے۔ بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی جے پی مخلوط حکومت کو گرانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ پچھلے ایک سال میں حکومت کو گرانے ناراض اراکین اسمبلی کی یہ چھٹی کوشش ہے۔ بی جے پی انہیں خرید نے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے-

احتیاطی اقدام: کانگریس نے احتیاطی اقدام کرتے ہوئے پارٹی کے تمام باغی اراکین اسمبلی کو قانون کی دفعہ (1B) 164کے تحت نوٹس جاری کردیا ہے۔ اس نوٹس کی رو سے استعفیٰ دینے والے لجس لیٹرس کو ایک میعاد کے لئے چناؤ لڑنے سے نااہل بھی قراردیا جاسکتا ہے۔ اس خوف سے تقریباً 7/اراکین اسمبلی ممبئی سے فوری بنگلور واپس لوٹ کر اپنے استعفیٰ نامے واپس بھی لے سکتے ہیں۔ اطلاع ملی ہے کہ یہ لجس لیٹرس ممبئی ایرپورٹ پہنچ چکے ہیں لیکن خراب موسم کی وجہ سے ان کی پرواز میں تاخیر ہورہی ہے۔ آج شہرمیں کانگریس ورکرس اور لیڈروں نے باغی اراکین اسمبلی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا-

رمیش کمار کی آمد: اسمبلی اسپیکر رمیش کمار ویلور سے بنگلور روانہ ہوچکے ہیں۔ وہ بروز منگل باغی اراکین اسمبلی کی جانب سے ان کے دفترمیں جمع کردہ استعفوں پر قانونی کارروائی کریں گے۔ دریں اثناء بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ رمیش کمار باغی اراکین اسمبلی کے استعفےٰ قبول کرنے میں عمداً تاخیر کررہے ہیں اس لئے ان کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی بھی تجویز ہے۔ اسپیکر نے اگر 13/باغی اراکین اسمبلی کے استعفےٰ منظور کرلئے تو اسمبلی میں اراکین کی تعداد 210رہ جائے گی جن میں بی جے پی کے 105/ اور کانگریس۔ جے ڈی ایس کے 105ہیں اوراس کے ساتھ ہی بی جے پی کو دو اراکین کی تائید بھی مل گئی جس سے وہ107 پر پہنچ گئی -استعفیٰ منظورہونے کی صورت میں میجک نمبر کیلئے 106اراکین کی ضرورت ہے-


Share: