ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ڈو کلام: سکم۔اروناچل میں چینی سر حد کا جائزہ لے گی پارلیمانی کمیٹی،راہل گاندھی بھی شامل 

ڈو کلام: سکم۔اروناچل میں چینی سر حد کا جائزہ لے گی پارلیمانی کمیٹی،راہل گاندھی بھی شامل 

Mon, 30 Apr 2018 21:17:38    S.O. News Service

نئی دہلی 30اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ایک دن پہلے ہی کانگریس صدر راہل گاندھی نے ڈوکلام مسئلے کو لے کر مرکزی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی تھی، اب وہ خود حالات کا جائزہ لینے چین سے متصل علاقوں کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔

دراصل کانگریس کے ایم پی ششی تھرور کی قیادت میں خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹی اگلے ماہ سکم اور اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں کا دورہ کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اس ٹیم میں راہل گاندھی بھی شامل ہوں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی کے رکن ڈوکلام بحران کے بعد کے حالات کا جائزہ لیں گے ۔

واضح ہو کہ گزشتہ سال بھارت اور چین کے فوجی ڈوکلام میں 73 دنوں تک آمنے سامنے تھے۔ حالیہ دنوں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دورہ چین اس سلسلے میں اہمیت کا حامل ہے علاوہ ازیں اس تناظر میں کمیٹی کا دورہ بھی کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ کمیٹی ڈوکلام میں بھارت چین فوجی تعطل کے تمام پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔ سابق اور موجودہ سیکرٹری خارجہ وجے گوکھلے کی طرف سے کمیٹی کو کئی بار اس معاملہ پر اطلاعات فراہم کی جاچکی ہے ۔ ایک ذرائع نے کہا کہ دو ریاست سکم اور اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں زمینی حقیقت کو سمجھنے کے لئے کمیٹی کے رکن دورہ کریں گے۔ایک اور ذرائع نے کہا کہ مقصد واضح ہے کہ بھارت۔چین سرحد پر موجودہ حالات کا جائزہ لینے پارلیمانی کمیٹی کا وفد دورہ کرے گا۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہوا تو جس علاقے میں دراندازی ہوئی تھی، کمیٹی کے رکن وہاں بھی جا سکتے ہیں۔بتایا جا رہا ہے کہ فضائی معائنہ کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وفد کے رکن وہاں تعینات ٹاپ سیکورٹی اور ڈیفنس حکام کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ گزشتہ سال 16 جون کو سکم سیکٹر میں بھارت اور چین کی فوج کے درمیان 2 ماہ سے زیادہ وقت تک تعطل بر قرار رہا تھا ۔ دراصل ہندوستانی فوج نے متنازعہ ٹرائی جنکشن میں چینی فوجیوں کو سڑک بنانے سے روک دیا تھا اس پر تنازعہ بڑھا تھا ۔واضح ہو کہ ڈوکلام کو لے کر چین اور بھوٹان میں بھی تنازعہ ہے۔

قبل ازیں وزارت خارجہ کے حکام نے 31 رکنی پارلیمانی کمیٹی کو معلومات دی تھی کہ بھوٹان اس مسئلے کے تحت مکمل طور پر بھارت کے ساتھ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بحث کے دوران کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزارت خارجہ کے حکام سے پوچھا تھا کہ آخر ڈوکلام تنازعہ کو لے کر چین کی نیت کیا ہے؟ انہوں نے پوچھا تھا کہ بیجنگ نے آخر ڈوکلام کو ہی کیوں منتخب کیا ہے ۔ راہل گاندھی نے ان اطلاعات کے بارے میں بھی پوچھا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈوکلام کے پاس چین کافی تعمیراتی کام کرا رہا ہے۔ اس پر حکام نے کہا ہے کہ ہندوستانی علاقہ میں چین کچھ بھی نہیں کر رہا ہے ۔ 


Share: