ممبئی،19/ جون (آئی این ایس انڈیا) شیوسینا کی نائب لیڈر پرینکا چترویدی نے ہفتے کے روز کہا کہ مرکز کو چین کے اس دعوے کا جواب دینا چاہئے کہ اس کی لداخ میں وادی گلوان پر خودمختاری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پیر کی رات مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں چینی فوجیوں کے ساتھ پرتشدد جھڑپ میں ایک کرنل سمیت ہندوستان کے 20 فوجی اہلکار شہیدک ہوگئے۔ یہ پانچ دہائیوں میں ہندوستان اور چین کے مابین سب سے بڑا فوجی تصادم تھا۔ ہندوستان نے وادی گلوان پر خودمختاری کے چینی فوج کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے بیجنگ سے کہا کہ وہ اپنی سرگرمیاں اپنے تک محدود رکھیں۔ اس کے بعد جمعہ کے روز چین کی وزارت خارجہ نے دعوی کیا کہ گلوان وادی چین کی جانب سے لائن آف ایکچول کنٹرول کی طرف ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے چھ ہفتوں سے چین کی سرحد پر تعطل کی صورتحال پر غیر واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی ہندوستانی حدود میں داخل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہندوستانی چوکیوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ چترویدی نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کل ملک کو یقین دلایا کہ چین نے ہندوستان کی کسی چوکی / علاقے پر قبضہ نہیں کیا ہے لیکن یہاں چین وادی گلوان پر اپنے دعوی پر زور دے رہا ہے۔ حال ہی میں راجیہ سبھا کے لئے منتخب چترویدی نے کہاکہ یہ ناقابل قبول ہے اور حکومت کو اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم نے وادی گلوان کو حوالے کردیا ہے یا وہاں سے پی ایل اے کو بھگادیا ہے؟ ملک جاننا چاہتا ہے۔