الہ آباد،23ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) الہ آباد ہائی کورٹ نے شاہ جہاں پور میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ایک طالبہ کا سابق مرکزی وزیر چنمیانند کی طرف سے مبینہ طور پر جنسی استحصال کئے جانے کے معاملے کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی پیش رفت رپورٹ پر پیر کو اطمینان کا اظہار کیا۔اس معاملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے خود کار طریقے سے نوٹس لئے جانے کے بعد جسٹس منوج مشرا اور جسٹس منجو رانی چوہان کی بنچ نے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔عدالت نے آگے کی رپورٹ داخل کرنے کے لئے 22 اکتوبر 2019 کی تاریخ طے کی۔سابق مرکزی وزیر چنمیانند کے خلاف جنسی تشدد کے اس معاملے کی سماعت کے وقت متاثرہ لڑکی بھی عدالت میں موجود تھی۔ متاثرہ لڑکی نے اپنی گرفتاری پر روک لگانے کے لئے ایک درخواست دی تھی، لیکن عدالت نے اسے کسی طرح کی راحت دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا۔عدالت نے کہا کہ اگر متاثرہ لڑکی اس سلسلے میں کوئی راحت چاہتی ہے تو وہ مناسب بنچ کے سامنے نئے سرے سے ایک درخواست دائر کر سکتی ہے۔عدالت نے کہا کہ یہ بنچ اس معاملے میں صرف تحقیقات کی نگرانی کرنے کے لئے نامزد کی گئی ہے اور گرفتاری کے معاملے میں روک لگانے کا کوئی حکم نافذ کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے۔بتا دیں کہ اس سے پہلے خراب صحت کی وجہ سے چنمیانند کو کنگز جارج میڈیکل یونیورسٹی ریفری کیا گیا تھا۔جیل کے ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے ضلع جیل میں بند چنمیانند کو انجیو گرافی کے لئے لکھنؤ کے کے جی ایم یو ریفر کیا۔سوامی کے وکیل اوم سنگھ نے بتایا کہ بی جے پی لیڈر کی حالت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے محسوس کیا کہ انہیں انجیوگرافی کی ضرورت ہے اس لیے انہیں کے جی ایم یو ریفر کیا گیا۔سنگھ نے بتایا کہ چنمیانند کی حمایت میں آئے بی جے پی لیڈر اور سابق ایم ایل سی جیش پرساد بھی سوامی کے ساتھ لکھنؤ گئے ہیں۔پرساد نے سوامی سے جیل میں اتوار کو ملاقات کی تھی۔انہوں نے 72 سالہ سوامی کی صحت پر تشویش ظاہر کی تھی۔