ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پورے ملک میں مذہبی جنون پھیلانے کی کوشش، بی جے پی سے کیوں جڑے تھے ادئے پور کے ملزمین؟انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ

پورے ملک میں مذہبی جنون پھیلانے کی کوشش، بی جے پی سے کیوں جڑے تھے ادئے پور کے ملزمین؟انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ

Sun, 03 Jul 2022 11:17:50    S.O. News Service

نئی دہلی،3؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی)ادئے پور میں درزی کنہیا لال کے قتل کے اہم ملزم ریاض عطاری اور محمد غوث نے قتل سے بہت پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) لیڈروں سے رابطہ کرلیا تھا۔ بی جے پی کے کئی لیڈروں کے ساتھ ان کی تصویریں ملی ہیں۔

کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتہ کو ایک اخباری کانفرنس کرکے بی جے پی لیڈروں کے ساتھ ملزمین کی تصاویر بھی جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے۔لیکن بی جے پی نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ملزم کا بی جے پی سے تعلق تھا۔ تاہم تصاویر کی وجہ سے بی جے پی کو تمام الزامات کا سامنا ہے۔ کیونکہ بی جے پی نے بھی تصاویر کی بنیاد پر اپوزیشن لیڈروں پر تمام الزامات لگائے تھے۔ بی جے پی نے تصویر کی بنیاد پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔

انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں کے ماضی کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے کم از کم تین سال تک بی جے پی کی راجستھان یونٹ میں گھسنے کی کوشش کی۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ادئے پور میں پیش آئے ہولناک واقعہ کے تناظر میں ایک میڈیا گروپ نے انتہائی سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کنہیا لال کے قتل کا اہم ملزم ریاض عطاری کے تعلقات بی جے پی لیڈر ارشاد چین والا اور اور محمد طاہر سے ہیں اور ان کے تعلقات کی تصویریں جگ ظاہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس انکشاف میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ریاض عطاری اکثر راجستھان بی جے پی کے بڑے لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ کے پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہے۔ ریاض کی راجستھان بی جے پی اقلیتی یونٹ کے اجلاس میں شرکت کی تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ترجمان نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی اپنے ترجمانوں اور لیڈروں کے ذریعے میں مذہبی جنون پھیلانے کی کوشش کرکے پورے ملک میں آگ لگا کر سیاسی پولرائزیشن کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے؟ ان کا یہ بھی سوال ہے کہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ ان پارٹی لیڈروں کے جنون پھیلانے کی کوششوں پر خاموش رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر ارشاد چین والا کی 30 نومبر 2018 ء اور محمد طاہر کی 3 فروری، 27اکتوبر اور 28نومبر 2019 ء اور 10اگست 2021 ء کو فیس بک پر پوسٹس سے واضح ہوتا ہے کہ کنہیا لال قتل کا ملزم ریاض نہ صرف بی جے پی لیڈروں کا قریبی بلکہ وہ بی جے پی کا سرگرم رکن بھی تھا۔


Share: