چنڈی گڑھ،6؍ فروری (ایس او نیوز؍یو این آئی) کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کل لدھیانہ میں وزیر اعلیٰ کے چہرے کا اعلان کرنے سے پہلے ہی پارٹی کے اندر اعلیٰ کمان کے اس فیصلے کی بابت یکجہتی نظر نہیں آ رہی ہے۔اب کانگریس کے ایک بڑے چہرے، سابق وزیر اور ریاستی کانگریس کے صدر پرتاپ سنگھ باجوہ نے وزیر اعلیٰ کے چہرے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہفتے کو کہا کہ میری رائے ہے کہ وزیراعلیٰ کے چہرے کے اعلان سے کانگریس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لیے مخالفین کو موقع دینے کی بجائے اجتماعی قیادت کو انتخابی میدان میں اتارناچاہیے۔مسٹر باجوہ نے کہا کہ ویسے بھی وزیر اعلیٰ چرنجیت چنی ایک گھڑ سوار ہیں اور باقی ٹیم ان کے تعاون کیلئے ہے۔ جب کانگریس کے پاس وزیراعلیٰ کا چہرہ پہلے سے ہے تو اعلان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ حالانکہ مسٹر باجوہ، مسٹر چنی کی وکالت کرتے نظر آئے اور کہا کہ مسٹر چنی وزیراعلیٰ کا چہرہ اور ریاستی کانگریس کے صدر نوجوت سدھو اور باقی ٹیم ان کے ساتھ ہے۔ اب یہ وقت ہے کہ پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کیلئے سب مضبوطی سے متحد ہو جائیں۔ ایسے فیصلے سے پارٹی میں پھوٹ بھی پڑ سکتی ہے۔ ویسے ہی پارٹی گذشتہ لمبے وقت سے اتارچڑھاؤ سے گذر رہی ہے جس کا عوام پر اچھا اثر نہیں پڑا۔مسٹر سدھو نے صاف کہہ دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ تب بنے جب اس کے ساتھ 60 / اراکین اسمبلی ہوں۔ میں نے ہمیشہ ایشو کی سیاست کی ہے، اقتدار کی بھوک کی وجہ سے میں کانگریس میں شامل نہیں ہوا، میں راہل اور پرینکا کا ساتھ چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ میں کبھی بھی ایشو (مدعے -مسائل) کی سیاست سے نہیں ہلا۔ پنجاب ماڈل میرا ماڈل نہیں بلکہ پنجاب ماڈل سدھو کا تجربہ ہے۔ یہ پنجاب کے عوام کی زندگی بدلنے کا ایک ماڈل ہے۔ وزیراعلیٰ کے چہرے کا کردار، ان کی پالیسی کیا ہے، یہ پہلے صاف ہو۔ کہیں مافیا کا حصہ تو نہیں، پچھلے دو وزرائے اعلیٰ نے مافیا راج چلایا۔