نئی دہلی4/اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسیز) جموں و کشمیر سے دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد سے بوکھلائے پاکستان نے پاک مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پاس 4/اکتوبر بروز جمعہ کو مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں مقامی لوگوں کی بھی شرکت متوقع ہے۔ ہندوستانی فوج کے ذرائع کے مطابق یہ مارچ پاک مقبوضہ کشمیر یعنی پی او کے سے یل او سی تک نکالنے کی تیاری ہے۔ فوج کے مطابق پاکستان نے دفعہ 370/پر کشمیر میں بدامنی پھیلانے کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ ہندوستانی فوج کے مطابق اس نے پاکستانی فوج کی جانب سے نکالے جارہے مارچ کو ناکام بنانے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ ہندوستان نے صاف طور پر کہا ہے کہ ایل او سی پر کسی بھی طرح کی سرگرمیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب پاک فوج کے شعبہئ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی سربراہ قمر جاوید باجوا کی صدارت میں منعقد کور کمانڈر کانفرنس میں باجوا نے ایک بار پھر کشمیر کا راگ الاپتے ہوئے کہاکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہم اس کے دفاع کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ملک کی عزت، سلامتی اور دفاع کے لئے ہم ہر قیمت پر تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر کشمیر میں انسانی خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی اٹھایاگیا۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے 5/اگست کو جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370/کو ختم کردیاتھا۔ اس کے علاوہ ریاست کو دو مرکزی عملداریوں میں بانٹ دیاتھا۔ ہندوستان کے اس فیصلہ پر پاکستان نے پوری دنیا میں شور مچایا اور مسلم ممالک سمیت امریکہ اوربرطانیہ ودیگر ممالک کے حکمرانوں سے مل کر دفعہ 370/کو بحال کرنے کے لئے حکومت ہند پر دباؤ بنانے کی درخواست کی لیکن کسی نے بھی واضح طور پر حکومت پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔ دبے لفظوں میں ایران،ترکی اور چین نے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ثالثی کے کردار کے لئے اپنے آپ کو کئی بار پیش کیا لیکن ہندوستان نے ہر بار اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر تنازعہ دوملکوں کے درمیان ہے۔ دونوں ممالک اس کو حل کریں گے کسی ثالث کی ضرورت نہیں۔