ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ووٹوں کی گنتی میں گڑبڑی کے الزام کے بیچ نتیش حکومت سازی کیلئے تیار

ووٹوں کی گنتی میں گڑبڑی کے الزام کے بیچ نتیش حکومت سازی کیلئے تیار

Thu, 12 Nov 2020 13:43:42    S.O. News Service

پٹنہ،12؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بہار میں  ووٹوں کی گنتی میں گڑ بڑی  کے الزامات کے بیچ این ڈی اے کو واضح  اکثریت مل جانے کے بعد نتیش کمار چوتھی بار وزیراعلیٰ بننے کی تیاری میں  مصروف ہوگئے ہیں جبکہ 75؍ سیٹوں  کے ساتھ بہار اسمبلی میں  سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرنے والی آر جے ڈی اپوزیشن  میںبیٹھے گی۔ آر جے ڈی، کانگریس اور بائیں محاذ کا الزام  ہے کہ الیکشن کمیشن کے مقامی نمائندوں  نے ریاستی حکومت کے دباؤ میں کام کرتے ہوئے گنتی میں نہ صرف دھاندلی کی بلکہ کئی سیٹوں پر نتائج بھی تبدیل کردیئے ہیں۔ 

الیکشن کمیشن سے شکایت ، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا: منگل کی رات ہی آر جے ڈی، کانگریس اور بائیں  محاذ کے وفد نے الیکشن کمیشن سے دھاندلی  کی شکایت کی مگرکمیشن نے اسے مسترد کردیا۔الیکشن کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ  اس نے کبھی کسی کے دباؤ میں  کام نہیں کیا ہے۔ نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل  امیش سنہا نے بھی صفائی پیش کی اور کہا کہ ’’میں ایک بار پھر سب کو اطمینان دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے افسر بغیر تھکےکسی کے دباؤ کے بغیر کام کررہے ہیں۔‘‘ 

حکومت سازی کیلئے ہلچل مگر جے ڈی یو میں خاموشی: بہار میں حکومت سازی کے لیے نئی ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ بی جے پی کے خیمے میں جہاں جشن کا ماحول ہے ، وہیں جے ڈی یو خاموشی کے ساتھ اپنی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے۔اسمبلی انتخابات میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی خصوصی ٹیم کی کمان سنبھالنے والے ڈاکٹر اشوک چودھری کے ساتھ ہی پارٹی کے ریاستی صدر وششٹھ نارائن سنگھ بھی بدھ کو وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر پہنچے ہیں۔ 

دیوالی بعد حکومت سازی: اس دوران جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے کہا ہے کہ دیوالی کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں نئی حکومت کی تشکیل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دیوالی میں اب زیادہ وقت نہیں ہے ، اس لیے تہوار سے پہلے نہیں لگتا کہ حکومت کی تشکیل ہوپائے گی۔ بہار میں مہاراشٹر جیسی صورت حال بننے کے امکانات کے سوال پر کے سی تیاگی نے کہا کہ یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس دوران یہاں جے ڈی یو کے خیمے میں  خاموشی  کے ساتھ گہماگہمی شروع ہوگئی ہے۔ جے ڈی یو کے ایک لیڈر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی صورت میں بتایا کہ حکومت سازی میں کسی طرح کی کوئی دقت نہیں ہوگی اور نہ ہی حکومت کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ واضح ہوکہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو زیادہ سیٹیں آنے کے سبب سیاسی گلیاروں میں چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ نتیش کمار سخت دباؤ میں رہیں گےاور زیادہ تر وزارتیں بی جے پی کے کھاتے میں جائیں گی۔ 

مہاگٹھ بندھن کی جانب سے نتیش کو پالا بدلنے کی دعوت!: ادھر مہاگٹھ بندھن کی طرف سے بھی اشارے اشارے میں نتیش کمار کو پالا بدلنے کی دعوت دی جا رہی ہے ، لیکن کوئی کھل کر کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ این ڈی اے کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ ہم آواز میں اثر کے منتظر ہیں۔ بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے سبھی پارٹیوں کی جھولی میں کچھ نہ کچھ ایسا ڈال د یاہےکہ وہ مطمئن ہوسکتے ہیں۔انتخابات میں شامل سبھی پارٹیوں کے ہدف الگ الگ تھے۔ 

 کانگریس اپنی ناقص کارکردگی پر بھی مطمئن:  گزشتہ کئی انتخابات  سے دوسروں کے سہارے جیتنے والی کانگریس کیلئے  موجودہ نتائج امیدکے مطابق بھلے ہی نہ ہوں مگرسکون ہے کہ بنیادی  ووٹ بینک کی حمایت نہ ملنےکے بعد بھی  وہ 19؍سیٹوں پر جیتنےمیں کامیاب رہی۔کانگریس نے 2015ءکے  انتخابات میں ۲۷؍سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔اس وقت آرجےڈی کے ساتھ جےڈی یو کے ووٹروں کی بھی اسے حمایت ملی تھی۔اس سے قبل صرف آرجےڈی کی حمایت سے 2010ء  میں کانگریس کو محض ۴؍سیٹیں ہی حاصل ہوئی تھیں۔اس تناظرمیں 19؍سیٹیں کانگریس کیلئے اطمینان بخش کہی جاسکتی ہیں۔


Share: