ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

Wed, 23 Jan 2019 12:36:45    S.O. News Service

بنگلورو23؍جنوری (ایس او نیوز) وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔ وی ٹی یو طلباء کے والدین ڈاکٹر یس وشواناتھ اور ڈاکٹر واسودیوا نے گزشتہ اکتوبر کے دوران گورنرکے نام ایک مکتوب لکھا تھا۔ اس میں الزام تھا کہ رجسٹرار کی حیثیت سے تقرر (ڈیپوٹیشن پر) ہونے سے لے کر ایچ این جگن ناتھ ریڈی بدعنوانیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اس شکایت میں کہاگیا ہے۔ ’’ ڈاکٹر ریڈی نے (200؍کروڑ سے کسی بھی طرح کم نہیں) بڑے پیمانے پر اثاثے بنائے ہیں اور بنگلور شہر اوراس کے اطراف نیز بنگلور شہری ضلع میں اپنے کنبے کے ارکان کے نام پر رئیل یسٹیٹ میں بھاری سرمایہ لگایا ہے۔ گورنر نے ابتدائی طور پر یونیورسٹی وائس چانسلر سے رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہاتھا۔ اس رپورٹ سے وہ مطمئن نہیں ہوئے اور جنوری میں وظیفہ یاب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈی یس شنڈے کو معاملہ کی جانچ کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ دستیاب دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وی ٹی یو وائس چانسلر کری سادپانے رجسٹرار کو تحقیقاتی افسر کے سامنے حاضرہونے کی ہدایت دی ہے۔ جنوری کے پہلے ہفتہ میں رجسٹرار کے نام لکھے گئے ان کے خط میں انہوں نے کہا ہے۔ ’’ آپ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ گورنر ریاست کرناٹک کی جانب سے مقرر تحقیقاتی افسر کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں‘‘۔ یہ چھان بین 7؍جنوری سے شروع ہونی تھی۔ جسٹس شنڈے نے ریڈی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ 11؍جنوری تک شکایت پراپنے تاثرات پیش کریں۔ تاہم رجسٹرار نے اس معاملہ کو کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے محکمہ برائے اعلیٰ تعلیم، وی ٹی یو، یونیورسٹی وائس چانسلر ، تحقیقاتی افسر، ڈاکٹر واسودیو مورتی اور ڈاکٹر وشواناتھ کو حلیف بنایا ہے۔ علاوہ ازیں ریڈی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے۔ ’’ میرے خلاف منصوبہ بند طریقہ سے یہ الزامات لگائے گئے ہیں تاکہ میری ساکھ کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ شکایت میں جس طرح کہاگیا ہے اس طرح اقتدار کا غلط استعمال کرنا آسان نہیں ہے۔ میں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں تمام ضابطوں پر عمل کیا ہے۔ اسی لئے میں نے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے چونکہ اب یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ میں اس سلسلہ میں مزید کچھ نہیں بول سکتا۔ 


Share: