بنگلورو، 19؍ دسمبر (ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کے فرزند پر مبینہ رشوت خوری کے الزاما ت کے سلسلہ میں شہر کے شیشادری پورم پولیس تھانے میں ایف آئی آردرج کرنے سے انکار کرنے کے بعد اس سلسلہ میں عدالت میں اس تھانے کے انسپکٹر کی اس حرکت کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے جس کے سبب انسپکٹر برے پھنس گئے ہیں۔
عدالت میں انسپکٹر نے جو بیان دیا تھا اسے جھوٹا قرار دیتے ہوئے ویدیکے نے دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کئے ہیں اور عدالت سے گزارش کی ہے کہ کرشنا مورتی کو سخت سزا دی جائے ۔
ویدیکے نے کہا کہ وجیندرا اور دیگر ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 384 کے تحت شیشادری پورم تھانے میں جنا سنگھرش ویدیکے کی طرف سے شکایت درج کی گئی ۔ لیکن اس شکایت کی بنیاد پر ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ پولیس کے اس رویہ کی شکایت کرتے ہوئے ویدیکے نے شہر کے 32 ویں اڈیشنل چیف میسٹر و پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت سے رجوع کیا تو اس کی سماعت کے دوران انسپکٹر کرشنا مورتی نے عدالت کو جھوٹا بیان دیا اور کہا کہ اس معاملہ میں کسی اور نے ایک علاحدہ شکایت درج کروائی ہے۔
ویدیکے کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کا بیان دے کر انسپکٹر نے عدالت کو گمراہ کیا ۔ انسپکٹر کے بیان کو بنیاد بنا کر زیر یں عدالت نے ویدیکے کی عرضی خارج کردی گئی ہے۔ ویدیکے نے کہا ہے کہ شیشادری پورم میں جو شکایت درج کروائی اور کے پی اگراہارا پولیس تھانے میں رام لنگم کنسٹر کشن کے چندراکانت رام لنگم نے جو شکایت درج کروائی اس میں کافی فرق ہے۔ ویدیکے نے کہا ہے کہ انسپکٹر نے اس معاملہ میں عدالت کو جھوٹا بیان دے کر سی آر پی سی کی دفعہ 340 اور 195 اس کے ساتھ تعزایرات ہند کی دفعہ 199،193 اور 201 کو پامال کیا ہے۔