اُدےپور ،29؍ جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) راجستھان کے جنوب میں واقع تاریخی شہر اُدےپور میں بی جے پی کی سابق ترجمان نپورشرما کی حمایت میں تقریباً دس روز قبل سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈالنے والےشخص کا منگل کو بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا گیا۔بتایا جاتاہےکہ گزشتہ کئی روز سے اسے دھمکیاں مل رہی تھیں اور منگل کو ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنادیا گیا۔ اس واردات میں ملوث دونوں ملزمین کو ویڈیو کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان حملہ آوروں کو راجستھان پولیس نے واقعہ کے چند گھنٹوں کے اندر راجسمند سے گرفتارکیا۔
اس واقعہ کے بعد سے شہر میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ و زیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے عوام سے امن و امان قائم رکھنےکی اپیل کی ہے جبکہ اس واردات کی چوطرفہ مذمت کی جا رہی ہے اورملک بھر کے مسلم سیاسی لیڈران ،مفکرین ، دانشوروں اور علماء نے اس کی انسانیت سوز حرکت کی شدید مذمت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق مقتول درزی کنہیا لال تیلی (40) نے گزشتہ دنوں نپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ ڈالی تھی جس کے بعد سے ہی کنہیا لال کو دھمکیاں مل رہی تھیں۔ کنہیا لال کی شہر کی دھان منڈی کے بھوت محل علاقے میں سپریم ٹیلرس کے نام سے دکان ہے۔ منگل کی دوپہر موٹر سائیکل پر سوار دو بدمعاش آئے اور کپڑوں کا ناپ دینے کے بہانے دکان میں داخل ہوئے ۔ جب تک کنہیا لال کچھ سمجھ پاتا دونوںبدمعاشوں نے اس پر حملہ کر دیا اور تلوار سے اس پر شدید وار کئے اور پھر اس کا گلا بھی ریت دیا۔ کنہیا لال نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ اس واقعے سے متعلق کچھ ویڈیوس بھی وائرل ہوئے ہیں تاہم پولیس نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر دھیان نہ دیں اور ایسے ویڈیوز شیئر نہ کریں۔
اس واردات کے بعد ادے پور میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور کئی جگہوں پرمشتعل بھیڑ نے توڑ پھوڑ کی اور آتشزنی کی جس کے بعد ان علاقوں میں کرفیو لگادیا گیا ہے جبکہ حالات کے پیش نظر انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ گہلوت نے کہا کہ یہ انتہائی لرزہ خیز واقعہ ہے اور اس واقعہ کے ذمہ داروں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے ٹویٹ کیا کہ میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اس واقعے کی ویڈیو شیئر کرکے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ادھر مسلم دانشوروں اور علماء نے بھی سخت الفاظ میں اس بہیمانہ واردات کی مذمت کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ این آئی اے کو اس معاملے کی تفتیش سونپی گئی ہے۔