نئی دہلی،24 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا) دہلی کے نائب وزیر اعلی اور وزیر تعلیم منیش سسودیا نے ایک ایسی تجویز کو بحث کے لئے پیش کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہم اس سال نرسری کلاس سے داخلہ نہ لیں اوراگلے سال نرسری اور کے جی کے ساتھ میں داخلہ ایک ساتھ لیں؟
حالانکہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے، اس سلسلے میں تمام فریقین سے بات چیت جاری ہے۔ واضح رہے کہ نرسری کے داخلے کے بارے میں نوٹیفکیشن عام طور پر دسمبر کے آخری مہینے میں نکلتاہے، جس میں پورا عمل بتایا جاتا ہے۔ لیکن اس سال، کورونا کی مہاماری کی وجہ سے بچوں اسکول نہیں جاسکے ہیں جن کا داخلہ 2020-21 کے لیے نرسری میں ہوا تھا کیونکہ کورونا کی وجہ سے ملک بھر کے تمام اسکولوں مارچ کے مہینے سے بند تھے۔
فی الحال اسکول کھولنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔دوسری طرف والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بارے میں اب بھی خوف زدہ ہیں۔ مرکزی حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ بچوں کے لئے کورونا ویکسین نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں اس بات پر غور کیا جارہا ہے کہ اگر اس سال بچوں کو نرسری میں داخلہ دیا جاتا ہے تو پھر اس کاکیا فائدہ ہوگا، کیوں کہ اسکول کے کھلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
واضح رہے کہ دہلی میں مارچ کے بعد سے اسکول بند ہیں۔ حکومت نے نویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کو تعلیمی بنیادوں پر اسکول جانے کی اجازت دے دی تھی، لیکن دہلی میں کورونا کی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے اس اسکیم پر عمل درآمد نہیں کیا اور اسکول کھولنے کی مرکز کے اجازت دینے کو دہلی میں نافذ کرنے سے بھی انکار کردیا گیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اس سال نرسری کلاس میں طلبا کو داخلہ دیا جائے گا یا نہیں۔