نئی دہلی،2/ فروری (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) نربھیا کے قصورواروں کو جلد از جلد پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ والی مرکزی سرکار اور دہلی پولیس کی درخواست پر سماعت کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ اور دہلی پولیس نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے اس حکم پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے جس میں نربھیا کے قصورواروں کے’ڈیتھ وارنٹ‘ کے عمل پر روک لگا دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے قصورواروں پر قانون کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کورٹ سے کہا کہ مجرم قانون کے تحت ملی سزا کے عمل پر تاخیر کئے جانے کا منصوبہ بند طریقہئ کار اختیار کررہا ہے۔ مہتا نے جسٹس سے کہا کہ مجرم پون گپتا کیوریٹیو یا رحم کی درخواست دائر نہیں کرنا منصوبہ بندہے۔ مہتا نے کہا کہ نربھیا کیس کے مجرم عدالتی مشینری سے کھیل رہے ہیں اور ملک کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ سالیسٹر جنرل نے کورٹ سے کہا کہ قانون کے تحت ملی سزا کے عمل پر تاخیر کرنے کی ایک منصوبہ بند اقدام ہے۔ایڈووکیٹ اے پی سنگھ نے قصورواروں نوین سنگھ (31)، ونے شرما (26) اورپون (25) کی جانب سے دلیلیں رکھیں۔ وہ معاملے کے قصورواروں کی پھانسی کی سزا کی تعمیل پر روک کو درکنار کرنے کی درخواست والی مرکز کی عرضی کے خلاف دلیلیں پیش کر رہے تھے، مکیش کی جانب سے وکیل روبیکا جان نے بھی اپنے دلائل پیش کئے۔