ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میگھالیہ انتخابات؛ کانگریس کو اکثریت مگر حکومت بنانے کے لئے سیٹیں ناکافی

میگھالیہ انتخابات؛ کانگریس کو اکثریت مگر حکومت بنانے کے لئے سیٹیں ناکافی

Sat, 03 Mar 2018 14:56:39    S.O. News Service

شیلانگ 3/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) میگھالیہ  میں 59 اسمبلی کی نشستوں کے لئے ووٹوں کی گنتی  جا ری  ہے. اب تک ملے رجحانات / نتائج کے مطابق این پی پی میگھالیہ میں کانگریس کو کڑی  ٹکر  دے رہی ہے. تازہ ترین رجحانات میں، کانگریس 22 نشستوں پر، بی جے پی 4 سیٹوں پر، این پی پی 16 اور دیگر پارٹیاں یا نمائندے 17 سیٹوں پرآگے ہیں۔

میگھالیہ  میں، کانگریس، بی جے پی اور این پی پی کے درمیان کڑی ٹکر دیکھنے کو مل رہی ہے اور کسی بھی ایک پارٹی کو اکثریت ملنا  مشکل نظر آرہاہے. ایسے میں ابھی سے ہی وہاں  سیاسی دائو پیچ کا کھیل شروع ہوگیا ہے. بی جے پی، کانگریس اور این پی پی کے رہنماؤں نے حکمت عملی  بنانی  شروع کردی ہے. میڈیا  کی رپورٹوں کے مطابق کانگریس کے اہم تجزیہ نگار  اور سونیا گاندھی کے بھروسہ منداحمد پٹیل نے دو  بڑے دیگر رہنماؤں کے ساتھ میگھالیہ پہنچ چکے ہیں۔  میگھالیہ میں پچھلے  نو سالوں سے  کانگریس  ہی کی  حکومت رہی ہے. ایسے میں  کانگریس  کے لئے ضروری ہے کہ وہ  اس قلعہ کو بچانے ہرممکن کوشش کرے.

یو پی کے وزیراعلی یوگی بھی نتائج سے خوش 
ادھر، یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ میگھالیہ  اور ناگالینڈ میں بی جے پی نے زبردست مظاہرہ  کیا ہے. تری پورہ   میں تو   بی جے پی حکومت بنانے جارہی ہے . بھارتی سیاست کے لئے یہ بہت اہم دن ہے. میں وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر امت شاہ اور تمام پارٹی کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں.

وہیں میگھالیہ میں پہلی بار کمل کھلنے کی کوشش کررہی بی جے پی بھی دبے پائوں چال رہی ہے، بتایا جارہا ہے کہ بی جےپی میگھالیہ میں پی اے سنگما کی پارٹی نیشنل پیوپلس پارٹی (این پی پی) سے بات چیت کررہی ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ نتیجے صاف ہونے کے بعد بی جے پی اور این پی پی ہاتھ ملا سکتے ہیں۔

میگھالیہ  میں 27 فروری کو انتخابات منعقد کئے گئے  تھے. ریاست میں کل 60 اسمبلی نشستیں موجود ہیں لیکن ایک اسمبلی حلقے میں ایک امیدوار کی وفات کے باعث، 59 حلقوں میں انتخابات منعقد کئے گئے  تھے۔. گنتی سے قبل  ہی میگھالیہ   کانگریس کے سینئر رہنما شینگ پلنگ نے کہا  تھا کہ ہم نتائج کا انتظار کررہے ہیں اس بار عوام صحیح فیصلہ کریں گے۔

سیاسی پنڈتوں کا بھی ماننا ہے کہ اس بار  کانگریس کے سامنے  قلعہ کو بچانے کا ایک بڑا چیلنج ہے. ایگزٹ پول کے مطابق  یہاں بی جے پی کے  حکومت بنانے کے دعوے کئے گئے تھے۔ ایسی صورت میں، اگر کانگریس میگھالیہ  میں ہار جاتی ہے  تو،اس ہار سے پورے ملک میں یہ پیغام  جائے گا کہ کانگریس پارٹی کومزید ایک ریاست سے خارج کردیا گیا ہے اور بی جے پی اس ہار پر  کانگریس مُکت  بھارت کے نعرے کو  مزید مضبوطی سے  پیش کرے گی. ایسے میں  2019  کے انتخابات پر بھی اس کا راست اثر پڑنے کے امکانات ہیں۔


Share: