ممبئی،25نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر میں کانگریس، این سی پی اور شیوسینا نے دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار کی حکومت کو چیلنج کرنے کے لئے پلان بی تیار کیا ہے۔اس کے مطابق اگر سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد اگر اگلے 24 گھنٹے میں خصوصی اجلاس بلا کر فلور ٹیسٹ کرنے کا حکم نہیں ملتا ہے تو تینوں پارٹیوں نے اپنے تمام ممبران اسمبلی کی گورنر کے سامنے پریڈ کرنے کی تیاری ہے۔تینوں جماعتوں نے اپنے ممبران اسمبلی کے دستخط کا خط تیار کیا ہے۔تمام ممبران اسمبلی کے نام کے ڈسپلے بورڈ بنائے گئے ہیں۔جس میں ان کی تصویر، اسمبلی علاقے کا نام، ان کے دستخط ہیں۔این سی پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر جینت پاٹل نے آج راج بھون جاکر دعوی کیا کہ کانگریس این سی پی اور شیوسینا کے پاس 162 رکن اسمبلی ہیں۔پاٹل نے کہاکہ آج صبح میں ایکناتھ شندے، بالا صاحب تھوراٹ، اشوک چوہان اور دیگر رہنماؤں نے گورنر کو خط پیش کیا اور کہا کہ ہمارے پاس 162 رکن اسمبلی ہیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے ایک بار پھر دعوی کیا کہ مہاراشٹر میں ان کی پارٹی، کانگریس اور شیو سینا کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی۔ساتارا ضلع کے کراڈ میں پوار نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ جانے کا فیصلہ ان کے بھتیجے اجیت پوار کا ہے۔ یہ پارٹی کا فیصلہ نہیں ہے اور ہم اس کی حمایت نہیں کرتے۔اجیت پوار کے ساتھ وہ رابطے میں نہیں ہیں، جنہوں نے این سی پی کے خلاف بغاوت کی ہے۔اجیت پوار کو این سی پی سے برخاست کرنے کے سوال پر پوار نے کہا کہ پارٹی سطح پر یہ فیصلہ لیا جائے گا۔غور طلب ہے کہ مہاراشٹر میں غیر متوقع سیاسی واقعات میں گورنر نے ہفتے کی صبح دیویندر فڑنویس کو وزیر اعلی اور اجیت پوار کو نائب وزیر اعلی کے عہدے کا حلف دلایاتھا۔اجیت نے ریاست میں مستقل حکومت بنانے کی بات کہتے ہوئے بی جے پی کو حمایت دے دیا تھا۔این سی پی سربراہ نے کہاکہ میں نے اپنے 50 سال کے سیاسی کیریئر میں کئی واقعات دیکھے ہیں۔مشکلات آتی ہیں، لیکن وہ عارضی ہوتی ہیں اور میرا تجربہ ہے کہ ریاست کے لوگ مضبوطی سے اس صورتحال کا سامنا کریں گے۔جب تک ان کے پاس نوجوانوں کی حمایت ہے انہیں کسی چیز کی فکر نہیں ہے۔ اس سے پہلے پوار نے مہاراشٹر کے کراڈ پہنچ ریاست کے پہلے وزیر اعلی یشونت راؤ چوہان کو ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کیا تھا۔