ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاجر کی موت پر اسپین میں پرتشدد مظاہرے

مہاجر کی موت پر اسپین میں پرتشدد مظاہرے

Sun, 18 Mar 2018 12:25:26    S.O. News Service

برلن 17مارچ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ایک مہاجر کی موت کے بعد ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں تارکین وطن اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ مظاہرین کے مطابق اس مہاجر کو ہسپانوی پولیس کی جانب سے سڑکوں پر تعاقب کا سامنا تھا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میڈرڈ میں متعدد مقامات پر مظاہرین سے نمٹنے والی پولیس کے ساتھ ساتھ فائرفائٹرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ دارالحکومت میڈرڈ کے لاواپائز ضلعے میں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور مظاہروں کا مرکز بھی یہی علاقہ ہے۔بتایا گیا ہے کہ متعدد مقامات پر مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اور کئی کچرا دان اور موٹر سائیکلیں بھی نذرآتش کر دیں۔مظاہرین نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ سینیگال سے تعلق رکھنے والے مامے مباگے نامی اس مہاجر کی موت پر احتجاج کر رہے ہیں، جو 12 سال پہلے اسپین آیا تھا اور یہاں سڑک پر اشیاء فروخت کیا کر تا تھا۔2017ء میں بھی جرمنی میں سب سے زیاد مہاجرین خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے آئے۔ بی اے ایم ایف کے مطابق سن 2017ء میں شام کے پچاس ہزار سے زائد شہریوں نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ قریب 92 فیصد شامیوں کو پناہ دی گئی۔ایمرجنسی سروس کے مطابق مباگے لاواپائز کے علاقے میں ایک سڑک پر پولیس کو دوران گشت بے ہوش ملا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ایمرجنسی ورکرز نے وہاں پہنچ کر اسے بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ جان بر نہ ہو سکا۔ ایمرجنسی سروس کے مطابق مباگے کی موت حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے ہوئی۔ایمرجنسی سروس نے تاہم یہ نہیں بتایا ہے کہ ایسے کیا حالات ہوئے مباگے بے ہوش ہو کر گر گیا، تاہم سڑکوں پر چیزیں بیچنے والے دیگر افراد کے مطابق اس کے پیچھے پولیس لگی تھی اور وہ گلیوں میں بھاگ رہا تھا۔25 سالہ دکان دار مودو، جن کا تعلق سینیگال سے ہے اور جنہوں نے اپنے پورا نام نہیں بتایا، نے کہا، ’’میونسپل پولیس پہنچی اور مباگے کے سول سے ماواپائز کے علاقیمیں بھاگنا پڑا۔ اسے بھاگ دوڑ میں وہ بلآخر مر گیا۔‘‘دیگر دکان داروں اور تارکین وطن نے بھی انہیں اطلاعات کی تصدیق کی ہے، تاہم حکام نے اب تک اس مہاجر کے فوت ہوجانے کے درپردہ حقائق کی تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔مباگے ان درجنوں دکان داروں میں سے ایک تھے، جو سڑکوں پر بغیر اجازت نامے کے چیزیں فروخت کرتے اور کچھ پیسے اپنے آبائی ملک میں اپنے اہل خانہ کو بھیجتے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد کے اعتبار سے اسپین، یونان اور اٹلی کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے، جہاں سن 2017 میں قریب 23 ہزار مہاجر پہنچے، جب کئی سینکڑوں اسپین پہنچنے کی تگ و دو میں مارے گئے۔


Share: