ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مکسچر کے پیکٹ پراردو میں لکھنے کو لے کر سوشیل میڈیا پر نفرت کا بازار گرم

مکسچر کے پیکٹ پراردو میں لکھنے کو لے کر سوشیل میڈیا پر نفرت کا بازار گرم

Thu, 07 Apr 2022 12:22:39    S.O. News Service

نئی دہلی، 7؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی)ہندوستان کی مشہور ہلدی رام کمپنی بدھ کی صبح سے ہی سوشیل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے- ٹرینڈ کرنے کی وجہ حیرت انگیز ہے- معاملہ کچھ یوں ہے کہ ہلدی رام نے پھلاہاری مکسچر کے پیکٹ پر ڈسکرپشن (تفصیل)عربی زبان(حالانکہ اسے اردو زبان بتایا جا رہا ہے)میں لکھی ہے- پھلاہاری مکسچر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کو بنانے میں کسی جانور کا تیل استعمال نہیں ہوتا، یعنی صرف پھلوں کا ہی استعمال ہوتا ہے- اس لیے نوراتری یا دیگر ورت(روزہ) کے موقع پر ہندو طبقہ اس کا خوب استعمال کرتا ہے- اس پروڈکٹ پر اردو زبان میں ڈسکرپشن لکھے جانے پر کئی لوگ اعتراض ظاہر کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جب یہ ہندوؤں کے ورت کو دیکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے تو پھر ڈسکرپشن ہندی یا انگریزی میں ہونا چاہیے-

اس تنازعہ کی شروعات اشتعال انگیز اور نفرت کو فروغ دینے والی خبروں کیلئے مشہور سدرشن ٹی وی کی ایک خاتون رپورٹر نے کی- رپورٹر ایک ریسٹورینٹ پر پہنچتی ہے جہاں اسٹاف سے اردو میں ڈسکرپشن لکھے جانے پر وضاحت طلب کرتی ہے- خاتون رپورٹر لگاتار یہ پوچھتی ہے کہ پھلا ہاری مکسچر میں ایسا کیا ہے جسے چھپانے کیلئے ڈسکرپشن اردو میں لکھا گیا ہے؟ کیا اس کو بنانے میں جانور کے تیل کا استعمال کیا گیا ہے؟ ریسٹورنٹ کی خاتون اسٹاف اس طرح کے سوالوں پر ناراض ہو جاتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ کسی بھی سوال کا جواب نہیں دے گی کیونکہ وہ انٹرٹین منٹ کا ذریعہ نہیں بننا چاہتی- وہ یہ ضرور کہتی ہے کہ ریسٹورنٹ میں ہندی اور انگریزی ڈسکرپشن والے پیکٹ بھی ہیں آپ کو اردو نہیں آتی تو ہندی-انگریزی والا پیکٹ خریدیں -

اس پورے واقعہ کی ویڈیو ٹوئٹر پر کئی لوگوں نے شیئر کی ہے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک بڑا ہندو طبقہ سدرشن ٹی وی کے رپورٹر کو درست ٹھہراتے ہوئے ہلدی رام کا بائیکاٹ کرنے پر زور دے رہا ہے- اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ سدرشن ٹی وی جو نفرت والا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے، اس میں وہ کامیاب ہو گیا ہے- حالانکہ اردو کے خلاف اس کی نفرت پر کئی لوگوں نے اعتراض بھی ظاہر کیا ہے- راجیہ سبھا رکن اور شیوسینا لیڈر پرینکا چترویدی نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر سے سوال کیا ہے کہ کیا یہ ٹھیک ہے؟ کیا چینل کو ٹی آر پی کیلئے (ریسٹورنٹ)ملازمین کو پریشان کرنا شروع کر دینا چاہیے، اور زیادہ سے زیادہ نفرت پیدا کرنی چاہیے؟ کیا اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟

سوشیل میڈیا پر کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان قرار دیئے جانے پر اعتراض کر رہے ہیں - کچھ لوگوں نے تو ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اردو سے اتنی نفرت ہے تو انھیں ہندوستانی کرنسی کا بھی بائیکاٹ کرنا چاہیے جس میں کئی زبانوں کے ساتھ اردو بھی لکھی ہوئی ہے- کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ ریلوے اسٹیشنوں پر اردو زبان میں اسٹیشن کا نام لکھا ہوتا ہے، تو کیا سدرشن ٹی وی والے ریلوے سے جا کر سوال پوچھیں گے؟

بہرحال، ہندوستان میں ہندو-مسلم منافرت کو بڑھانے والی باتیں لگاتار سامنے آ رہی ہیں - حجاب تنازعہ، لاؤڈاسپیکر سے اذان پر پابندی اور حلال گوشت تنازعہ ایسے تازہ ترین معاملے ہیں جن کے ذریعہ ہندو اور مسلم طبقہ کے درمیان نفرت کی دیوار پیدا کی جا رہی ہے-ہلدی رام کے پیکٹ پر اردو میں ڈسکرپشن لکھے جانے پر اعتراض بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم پڑ رہی ہے-


Share: