کاروار 21؍جولائی (ایس او نیوز)مچھلیوں کو تازہ رکھنے کے لئے کیمیادی مادے فارمولین کا استعمال کیے جانے کی خبریں عام ہونے کے بعد ایک طرف مچھلی خوروں کے دل میں خوف اور خدشات پیدا ہوگئے ہیں تو دوسری طرف ریاست گوا میں پڑوسی ریاستوں سے مچھلیوں کی در آمد پر پابندی لگادی گئی ہے۔
اس کے علاوہ کیرالہ کے بعض دوسرے مقامات پر پڑوسی ریاستوں سے لائی جانے والی مچھلیوں کی بڑی بڑی کھیپ اس لئے ضبط کرلی گئی کیونکہ مبینہ طور پر ان مچھلیوں کو تازہ رکھنے کے لئے اس پر فارمل ڈیہائڈ(مردہ انسانی جسم کو سڑنے سے بچانے کے لئے استعمال ہونے والا کیمیاوی مادہ) کا لیپ چڑھایا گیا تھا یا اس کے اندر انجکشن کے ذریعے یہ مادہ داخل کیا گیا تھا۔
بتایا جارہا ہے کہ اس طرح کاکیمیاوی مادہ استعمال کرنے کا کام مچھلیوں کو محفوظ رکھنے کے مراکز پر یا مچھلی کے ایجنٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔اورپھران مچھلیوں کو برسات کے موسم میں مہنگے داموں پر فروخت کرنے کے لئے مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔
دراصل فارمولین کا استعمال بڑی مقدار میں یا بہت دنوں تک انسان کرتا رہے تو پھر اس سے کینسرکی بیماری لاحق ہونے کا خطرہ بڑ ھ جاتا ہے۔لہٰذا جب سے فارمولین والی مچھلیاں ضبط ہونے کی خبریں عام ہوئی ہیں مچھلی کھانے کے شوقین خوف اور تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔جس کی وجہ سے مچھلیوں کی فروخت پر بھی برا اثر پڑا ہے اور ساحلی علاقے کی مارکیٹوں میں مچھلی کی خریداری میں کافی کمی دیکھی گئی ہے۔ خاص کر کاروار کی مارکیٹ میں بھی گزشتہ ایک ہفتے سے عوام کے اندر مچھلیاں خریدنے کے تعلق سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ اور مچھلی مارکیٹ گاہکوں کے بغیر ویران نظر آنے لگی ہے۔ اس کا بڑا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ گوا سے واپس لوٹائی گئی آندھرا، تملناڈو اور کیرالہ کی مچھلیوں کی لاریوں میں سے کچھ مچھلیاں کاروار مارکیٹ میں بھی فروخت کے لئے اتاری گئی تھیں۔
لیکن کاروار مارکیٹ میں مچھلی فروش خواتین کا کہنا ہے کہ :’’ہم کیمیکل ملائی گئی مچھلیاں نہیں بلکہ دیسی کشتی سے شکار کی گئی تازہ مچھلیاں ہی فروخت کرتی ہیں ۔ ہم مچھلیوں کو تازہ رکھنے کے لئے صرف برف کا استعمال کرتے ہیں اور یہ کوئی نقصان دہ چیز نہیں ہے۔ہم لوگ کاروار، ماجالی، گوا، مرڈیشور، بھٹکل اور کمٹہ سے آنے والی مچھلیاں ہی خریدکر فروخت کیا کرتے ہیں۔مگر گاہکوں کو شک و شبہ پیدا ہونے کی وجہ سے مچھلی کی فروخت بہت ہی کم ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ میڈیا میں اس تعلق سے آنے والی خبروں کا بھی بڑا اثر ہمارے کاروبار پر پڑا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمیں دن بھر سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا پڑ رہا ہے۔‘‘
کاروار مچھلی مارکیٹ کی صورتحال دیکھتے ہوئے محکمہ غذائی تحفظ کے افسر ارون کاشی بھٹ اورمحکمہ ماہی گیری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شریپاد ایچ کلکرنی کی ایک خصوصی ٹیم نے کاروار مچھلی مارکیٹ میں پہنچ کر مچھلیوں کا معائنہ کیا اور بتایا کہ وہاں پر فارمولین نامی کیمیکل استعمال کی گئی کوئی مچھلی نہیں پائی گئی ہے۔افسران کی طرف سے جانچ اور ان کی رپورٹ کے بعد شاید گاہک اب مچھلی خریدنے کی طرف راغب ہونگے اور مچھلی فروشوں کو راحت کی سانس لینے کا موقع ملے گا۔