نئی دہلی،10/ جنوری (ایس او نیوز/ یواین آئی) سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ ملک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے اور ملک میں امن وامان قائم کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) سے منسلک عرضیوں کی سماعت اس وقت تک نہیں کر ے گی، جب تک اس سلسلے میں ملک بھر میں جاری تشدد رک نہیں جاتا۔چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے نے یہ تبصرہ اس وقت کیا،جب وکیل پنیت کمار ڈھنڈانے سی اے اے کو‘آئینی’قرار دینے کے تعلق سے اپنی عرضی کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ جسٹس بوبڈے، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت کی بینچ نے عرضی میں کئے گئے مطالبے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے منظور قانون اپنے آپ میں آئینی ہی مانا جاتا ہے، اس کو آئینی قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔البتہ کورٹ کا کام اس کے آئینی جواز کو پرکھنا ہے۔جسٹس بوبڈے نے ڈھنڈا سے کہاکہ آپ قانون کے طالب علم رہے ہیں، آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے۔ پہلی بار میں اس طرح کی درخواست سن رہا ہوں۔ عدالت عظمیٰ کو قانون کے آئینی جوازکو دیکھنا ہوتا ہے، نہ کہ اسے آئینی قرار دینا۔ انہوں نے کہا کہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور ملک بھر میں امن وامان قائم کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ اس طرح کی عرضیوں سے مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتا۔ڈھنڈا نے سی اے اے کی حمایت میں عرضی دائر کی ہے اور ان سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو ہدایات دینے کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے بدامنی پھیلانے میں کردار ادا کیا ہے۔ عرضی گزار نے سی اے اے کو آئینی قرار دینے کا بھی عدالت سے مطالبہ کیا ہے۔ واضح ر ہے کہ سی اے اے کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی 60 عرضیاں عدالت میں داخل کی گئی ہیں جن پر اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں سماعت ہونی ہے۔مودی حکومت کی طرف سے لائے گئے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں پہلے ہی درجنوں عرضیاں دائر کی جا چکی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی، ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت متعدد رہنماؤں اور تنظیموں نے سپریم کورٹ سے سی اے اے کو غیر آئینی قرار دینے کی اپیل ہے۔ان تمام عرضیوں پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ایک نوٹس بھیجا ہے اور حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو جواب دینے کے لئے چار ہفتوں کا وقت دیا۔شہریت ترمیمی قانون کے مطابق بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ہندو، جین، سکھ، بودھ، پارسی اور عیسائی مہاجرین کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی، جبکہ مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس سے لوگوں کو این آر سی کا خوف ستا رہا ہے جس میں سبھی کو کاغذات جمع کر کے اپنی شہریت ثابت کرنی ہوگی۔ اس قانون کے خلاف گزشتہ کئی دنوں سے ملک کے کئی حصوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس دوران ہونے والے تشدد میں 20 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔