نئی دہلی، 3 ؍مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ میں جج رہ چکے جسٹس جے چیلمیشور نے کہا کہ یہ انسان پر انحصار کرتا ہے آپ کس جج کی بات کر رہے ہیں؟ تاہم میں کہہ سکتا ہوں کہ کچھ جج ایسے ہیں جنہیں جھکایا جا سکتا ہے لیکن تمام ججوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں ہے۔جے چیلمیشور نے کہا کہ جمہوریت میں سوال پوچھنا کوئی مخالفت نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف کبھی اس طرح سے ججوں نے آکر پریس کانفرنس نہیں کی تھی؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے چیلمیشور نے کہا کہ اگر کچھ کبھی نہیں ہوا اس کا مطلب یہ نہیں کہ کبھی نہیں ہو گا،جب ہم نے پریس کانفرنس کی اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ یہ کچھ نیا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی عدلیہ میں بحران آتا رہا ہے۔ایسے میں ججوں کو لے کر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں، لیکن تمام ججوں کو ایک نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب میں نے سوال اٹھائے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ میں نے کوئی ایجنڈا چلا رہا ہوں لیکن مجھے فرق نہیں پڑتا۔
چیلمیشویر نے کہا کہ مواخذہ لانا کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے،کالجیم نظام میں بھی کافی دقتیں ہیں،کورٹ کی طرف سے کی جا رہی تقرریوں کو روک رہا تھا،تاہم انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرریوں کو لے کر تنازعہ ہوا تھا،لوگ سینئرٹی کی بات کر رہے تھے، لیکن کسی نے ججوں کے فیصلوں کی بات نہیں کی۔ایسے میں لوگوں کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جج کیا سوچتا ہے کس طرح کے خیالات رکھتا ہے۔