ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مذہب کوتوہم پرستی اور سختی سے بالاتر ہونا چاہیے،مذہب کااصل جوہررواداری ہے:چیف جسٹس این وی رمنا

مذہب کوتوہم پرستی اور سختی سے بالاتر ہونا چاہیے،مذہب کااصل جوہررواداری ہے:چیف جسٹس این وی رمنا

Mon, 13 Sep 2021 11:06:47    S.O. News Service

نئی دہلی، 13؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی)این وی رمنانے کہاہے کہ مذہب توہم پرستی اور سختی سے بالاتر ہونا چاہیے- سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے یہ بات وویکانند انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ایکسی لینس، حیدر آبادکے 22 ویں یوم تاسیس اور سوامی وویکانندکے شکاگوکے تاریخی خطاب کی 128 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں بطور مہمان خصوصی کہی ہے- انہوں نے کہاہے کہ سوامی وویکانند نے اپنے خطاب (1893 میں شکاگو میں مذہبوں کی پارلیمنٹ میں) رواداری اور عالمی قبولیت کے خیال کی تبلیغ کی- چیف جسٹس نے کہاہے کہ سوامی وویکانند نے معاشروں میں قوموں اور تہذیبوں کو لاحق خطرات اور فرقہ وارانہ تنازعات سے لاحق خطرات کا تجزیہ کیا- آج معاصر ہندوستان میں، سوامی وویکانند کے 1893 میں کہے گئے الفاظ پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے- انہوں نے آزادی کی جدوجہد کے دوران برصغیر میں دردناک گمبھیرہونے سے بہت پہلے پیشین گوئی کی تھی جس کے نتیجے میں ہندوستان کا آئین بنا- انھوں نے سکیولرزم کی وکالت کی جیسا کہ وہ پہلے سے جانتے تھے- ان کا پختہ یقین تھا کہ مذہب کا اصل جوہر مشترکہ بھلائی اور رواداری ہے-سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ سوامی وویکانند پختہ یقین رکھتے تھے کہ مذہب کا اصل جوہر مشترکہ بھلائی اور رواداری ہے- مذہب توہم پرستی اور سختی سے بالاتر ہونا چاہیے- ایک از سر نو ہندوستان بنانے کے خواب کو پورا کرنے کیلئے مشترکہ بھلائی اور رواداری کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے- اس کے ذریعے ہمیں آج کے نوجوانوں میں سوامی جی کے نظریات کو بیدار کرنا چاہیے- نوجوان آزادی پسندوں نے کیااور کہا ہے کہ بھارت کی جدوجہد آزادی کی کہانی ان کے نام کے بغیر ادھوری رہے گی-


Share: