چترکوٹ، 25 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع کے چترکوٹ سے گزشتہ 12 فروری کو لاپتہ ہوئے دو جڑواں بھائیوں شریانش اور پریانش کو قتل کر دیا گیا،دونوں کی لاشیں اترپردیش کے باندہ میں ملی،بچوں کو اسکول بس سے اغوا کیا گیا تھا۔پولیس نے ملزمان پر 50 ہزار روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔مدھیہ پردیش پولیس اور اترپردیش پولیس کی طرف سے ایک مشترکہ تلاشی مہم بھی چلائی تھی لیکن بچوں کی لاشیں ملنے کے بعد تمام کوششوں پر روک لگ گیا۔بتا دیں کہ بچوں کے والد تیل تاجرہیں،بچوں کو اغوا کرنے کا واقعہ وہاں موجود سی سی ٹی وی میں بھی قید ہو گیاتھا،باوجود اس کے پولیس خونی تک نہیں پہنچ پائی،دونوں بچے چترکوٹ (مدھیہ پردیش) کے سدگرو پبلک اسکول میں پڑھتے تھے۔12 فروری کو دوپہر قریب ایک بجے اسکول کی چھٹی کے بعد بس سے گھر واپس آ رہے تھے،اسکول کے احاطے میں ہی موٹر سائیکل پر سوار دو نقاب پوش نوجوانوں نے پستول دکھا کر بس کو روکا اور بچوں کو اغوا کر لیا۔
بچوں کی موت کی خبر سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی،جس کو دیکھتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے،ناراض لوگوں نے علاقے میں توڑ پھوڑ بھی کی۔وہیں دوسری طرف اس واقعہ پر مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے کہا کہ مقتول بچوں کے خاندانوں کے ساتھ میری تعزیت،یہ انتہائی المناک واقعہ ہے، میں امید کرتا ہوں کہ حکومت اور انتظامیہ اس پر نوٹس لے کر مناسب اقدامات اٹھائیں گے۔مدھیہ پردیش پولیس نے اس معاملے میں 6 افراد کو گرفتار کیا ہے،ان کے پاس سے ان گاڑیوں کو بھی برآمد کیا گیا ہے جوکہ سازش میں استعمال کی گئی تھی۔