لکھنؤ، 25 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)لوک سبھا انتخابات کے لئے اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی۔بی ایس پی کے اتحاد کے بعد دونوں جماعتوں نے مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ میں بھی ساتھ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس بابت اتحاد کے درمیان سیٹوں کی تقسیم ہو گئی ہے۔اس میں مدھیہ پردیش کی 3 سیٹوں پر ایس پی لڑے گی باقی 26 نشستوں پر بی ایس پی الیکشن لڑے گی۔اسی طرح اتراکھنڈ کی 5 نشستوں میں پوڑی گڑھوال سیٹ پر ایس پی لڑے گی جبکہ باقی 4 نشستیں بی ایس پی کے اکاؤنٹ میں گئی ہیں۔مدھیہ پردیش کی جن 3 سیٹوں پر ایس پی لڑے گی، ان میں کھجوراہوں، ٹیکم گڑھ اور بالاگھاٹ شامل ہے۔بی ایس پی سربراہ مایاوتی اور ایس پی سپریمو اکھلیش یادو کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں یہ معلومات دی گئی ہے۔حال ہی میں مدھیہ پردیش میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی۔بی ایس پی نے کانگریس سے الگ انتخاب لڑا تھا۔اس میں ایس پی کو ایک جبکہ بی ایس پی کو 2 سیٹیں ملی تھیں لیکن نتیجے کے بعد کانگریس کی کمل ناتھ حکومت کو بی ایس پی نے حمایت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس سے پہلے دونوں جماعتوں نے اتر پردیش میں ساتھ لڑنے کا فیصلہ لیا تھا۔اس اتحاد میں یوپی کی 80 سیٹوں میں سے 75 سیٹوں پر دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم ہوا ہے۔ایس پی ان میں سے 37 سیٹوں پر انتخاب لڑے گی جبکہ 38 سیٹوں پر بی ایس پی اپنے امیدوار اتارے گی۔یوپی کی دیگر 5 سیٹوں میں سے 2 سیٹیں رائے بریلی اور امیٹھی ہیں، جن پر اس اتحاد نے اپنا امیدوار نہیں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان دونوں سیٹوں پر کانگریس صدر راہل گاندھی اور ان کی ماں سونیا گاندھی ایم پی ہیں۔
مانا جا رہا ہے کہ ایس پی۔بی ایس پی اتحاد میں یوپی کی 3 نشستیں اجیت سنگھ کی پارٹی آر ایل ڈی کے لئے رکھی گئی ہیں۔اس کے لئے جینت چودھری اور اکھلیش یادو کے درمیان ملاقات بھی ہوئی ہے، اگرچہ اس فیصلے پر ابھی مہر نہیں لگی ہے۔اگر گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کی بات کریں تو سال 2014 میں دونوں جماعتوں کو یوپی سے باہر ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔ایس پی یوپی میں 5 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی جبکہ بی ایس پی کا تو پورے ملک سے سوپڑا صاف ہو گیا تھا اور اسے ایک بھی لوک سبھا سیٹ جیتنے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن ووٹ شیئر کے معاملے میں بی ایس پی تیسرے سب سے بڑی پارٹی تھی۔