نئی دہلی12مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) حکومت نے آج لوک سبھا میں مفرور اقتصادی جرائم بل 2018 پیش کیا جس میں اقتصادی جرائم سے متعلق سزا کی کارروائی شروع ہونے کا امکان یا ان کے تحت اقدامات کے زیر التواء رہنے کے دوران ملزمان کے ملک چھوڑ کر چلے جانے کا مسئلہ حل نکالنے کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ وزیر شیو پرتاپ شکلا نے آج لوک سبھا میں بل پیش کیا۔ بل میں مفرور اقتصادی مجرم اعلان ہونے پر خصوصی عدالت کی طرف سے اس شخص کی بھارت میں یا بھارت کے باہر کوئی جائیداد جو مجرم کی ملکیت ہے یا نہیں اور جو اس کی گمنام پراپرٹی ہے ، اس پر قبضہ کرنے کا حکم دینے کا قانون ہے۔ بل میں تجویز ہے کہ ایک سو کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کی رقم کے ایسے جرم کرنے کے بعد جو شخص فرار ہے یا ہندوستان میں سزا سے بچنے یا اس کا سامنا کرنے کے لئے بھارت واپس آنے سے انکار کرتا ہے، اس کے اثاثوں اور جرائم سے حاصل وسائل کا قرق کیا جاسکتا ہے ۔اس میں کسی مفرور اقتصادی مجرم کا کوئی دعوی کرنے یا دفاع نہیں کرنے کی بھی تجویز بھی شامل ہے ۔بل کے مقاصدمیں کہاگیاہے کہ ایسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں جس میں لوگ اقتصادی جرم کی سزایاکارروائی وائی شروع ہونے کے امکان میں یا کبھی کبھی اقدامات کے زیر التواء رہنے کے دوران بھارتی عدالتوں کے دائرہ اختیار سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ یہ بل وجے مالیا، نیرومودی اور میہول چوکسی جیسے کاروباریوں کے ذ ریعہ بینکوں کا اربوں روپے کا قرض نہیں لوٹانے اور ملک سے باہر چلے جانے کے پس منظر میں لایا گیا ہے۔