ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لاکھوں افرادکی نقل مکانی ،صورتحال ہنگامہ خیز، مرکز فکر مند، تنقیدوں کی زد پر

لاکھوں افرادکی نقل مکانی ،صورتحال ہنگامہ خیز، مرکز فکر مند، تنقیدوں کی زد پر

Sun, 29 Mar 2020 12:02:10    S.O. News Service

 نئی دہلی،29؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے ملک گیر  لاک ڈاؤن کے اعلان   کے بعد  ملک کی مختلف ریاستوں  اور شہروں میں  برسر روزگار مہاجر  اور غریب مزدوروں کے اپنے آبائی وطن لوٹنے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہےا س نے مودی سرکار کی نیند حرام کردی ہے۔ 24؍ مارچ کو وزیراعظم  نے شام 8؍ بجے ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا  اور رات12؍ بجے وہ ملک بھر میں نافذ ہوگیا۔اس  کے ساتھ ہی آمدورفت کے تمام راستے مسدود ہوگئے  جس کے بعد لاک ڈاؤن کے سبب بے روزگار ہوجانے والے مزدوروں  نے پیدل ہی شہروں سے گاؤں کا رخ کیا۔ یہ سلسلہ گزشتہ 4؍ دنوں میں اپنے عروج کو پہنچ گیا ہے۔ یو پی سرکار نے سنیچر کو دہلی میں پھنسے اپنے شہریوں کیلئے ایک ہزار بسوں کا انتظام کیاتو غازی آباد کے بس اسٹینڈ پر ہزاروں افراد کا ایسا  جم غفیر لگا کہ کورونا سے بچنے کیلئے اختیار کی جانی والی سماجی دوری کی تدبیر بے معنی ہوکررہ گئی۔

اپوزیشن کی  مودی سرکار پرتنقید: اپوزیشن  کے لیڈر کورونا وائرس  کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کے ضروری ہونے کو تو تسلیم کررہے ہیں مگر مودی سرکار پر الزام ہے کہ نوٹ بندی کی طرح ہی کسی تیاری کے بغیر اس نے آناً فاناً  لاک ڈاؤن کونافذ کرکے غریبوں کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ کانگریس سربراہ سونیا گاندھی اور یوپی میں  کانگریس کے امور کی ذمہ دار پرینا گاندھی نے  حالات پر شدید تشویش کااظہار کیا ہے۔ سونیا گاندھی نے وزیراعظم کو مکتوب روانہ کرکے مطالبہ کیا ہے کہ مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے مزدوروں کے کھانے پینے کا بندوبست کیا جائے اورانہیں ان کے آبائی وطن پہنچنے میں بھی مدد کی جائے۔

 وزارت داخلہ حرکت میں آئی: لاک ڈاؤن کو سختی سے نافذ کرنے اور لوگوں کو نقل مکانی سے روکنے کے اپنے سخت احکامات کےبعد سنیچر کو مرکزی وزارت داخلہ نے انسان دوست رویہ اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ مہاجر مزدوروں کی ہر طرح مدد کریگی۔اس کے ساتھ ہی امیت شاہ کی وزارت نے ریاستی حکومتوں کو مزدوروں کی نقل مکانی روکنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کیلئے ریلیف کیمپ قائم کئے جائیں اوران کے کھانے پینے کا نظم کیا جائے۔ مرکز نے ریاستوں کو اس کیلئے  ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ 

حکومت نے منصوبہ بندی نہ کرنے کی تردید کی: ان تنقیدوں پر کہ حکومت نےکسی منصوبہ بندی  اور تیاری کے بغیر ہی ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کردیاہے، وزارت  برائے اطلاعات  ونشریات نے سنیچر کو دعویٰ کیا کہ ایسا نہیں ہے۔  وزارت کے مطابق اس معاملے میں ہندوستان کا ردعمل  بہت سوچا سمجھا اور مرحلہ واررہا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ جنوری میں ہی سرحدوں پر نگرانی بڑھا دی گئی تھی اور ایک ’’ہمہ جہت ریسپانس سسٹم‘‘ بنا لیاگیاتھا۔  حکومت کے مطابق ہندوستان میں بیرون ملک سے آنے والے شہریوں کی جانچ کا سلسلہ بہت پہلے شروع کردیاگیاتھا۔

 دہلی بس اسٹینڈ پر  ہزاروں کی بھیڑ: ملک گیر لاک ڈاؤن کے بعد  بے روزگاری اور غیر یقینی صورتحال سے جوجھ رہے  ہزاروں  مزدوروں کو جب  یہ معلوم ہوا کہ اتر پردیش کیلئے کچھ خصوصی بسیں چلائی جارہی ہیں تو وہ دسیوں ہزار کی تعداد میں دہلی  کے بس اسٹینڈ پر اکٹھا ہوگئے۔ افراتفری اور ہنگامہ خیز صورتحال میں کورونا وائرس  کے پھیلاؤ کو ٹالنے  والی انتہائی اہم احتیاتی تدبیر  سماجی دوری یہاں دھری کی دھری رہ گئی۔  واضح رہےکہ دہلی میں پھنسے ہوئے مزدوروں کی واپسی کیلئے اتر پردیش نے سنیچر کو ایک ہزار بسیں اور دہلی  سرکار نے 200؍ بسیں چلائی تھیں جن  میں جگہ پانے کیلئے بس اسٹینڈ پر جم غفیر امڈآیا اور پولیس کو اس پر قابو پانے میں دانتوں تلے پسینے آگئے۔ گھر لوٹنے کیلئے بے قرار ایک مزدور نے بتایا کہ وہ بے روزگار ہوگیا ہےا ور گاؤں واپس نہ گیا تو شہر میں بھوکا مر جائےگا۔ 


Share: