نئی دہلی یکم مئی(آئی این ایس انڈیا) وزیراعظم نریندرمودی کی صدارت میں یکم مئی کو اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔ جس میں وزیر داخلہ امت شاہ، ریلوے کے وزیر پیوش گوئل،وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن، بپن راوت سمیت کئی افسران موجود رہے۔ بتایاجا رہا ہے کہ میٹنگ میں لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے حوالے سے خبر ملی ہے کہ اس میٹنگ میں 3 مئی کے بعد حکومت کی حکمت عملی اور4 مئی سے کیا کیا چھوٹ دی جا سکتی ہے؟ اس پر بحث کی گئی۔اس دوران حکومت نے لاک ڈاؤن کو دوہفتوں کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اگلے ایک دودن میں وزارت داخلہ کی نئی گائیڈلائن جاری کی جاسکتی ہے، جس میں کس زون میں کیا چھوٹ دی جائے گی؟ اس کی تفصیلات ہوں گی۔
غور طلب ہے کہ لاک ڈاؤن کا دوسرا مرحلہ 3 مئی کو ختم ہو رہا ہے۔ حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج انفیکشن کوروکناہے۔ مرکزی وزراء اورافسروں کے ساتھ میٹنگ سے پہلے پی ایم مودی نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات کی تھی۔ حکمت عملی میں تھوڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کو کھولنے کے لیے پورے ملک کو پہلے ہی تین زون میں تقسیم کیا جاچکاہے، لیکن اب زون کے پیمانے بدلے گئے ہیں۔ وزارت صحت نے 3 مئی کے زون کی فہرست نئے پیمانے پر جاری کی ہے کہ کون سے اضلاع ریڈ زون میں ہیں اور کون سے گرین زون میں۔وزارت صحت نے لاک ڈاؤن ختم ہونے کی تاریخ یعنی 3 مئی کے بعد کی لسٹ کے لیے 130 اضلاع کو ریڈ زون، 284 کو اورینج زون اور 319 اضلاع کو گرین زون میں شامل کیا ہے۔
نئی فہرست کے مطابق ملک کے میٹرو شہر ریڈ زون میں ہی رہیں گے، جہاں وائرس پھیلنے کا مزید خطرہ ہے۔گرین زون یعنی وہ زون ہے جہاں 21 دن سے کوئی کیس نہیں آیاہے۔ پہلے گرین زون وہ زون تھے جہاں 28 دن سے کوئی کیس نہیں آیاتھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ گرین زون میں اب زیادہ اضلاع ہوں گے۔