ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / قطب مینار میں پوجا کی اجازت دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

قطب مینار میں پوجا کی اجازت دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

Tue, 24 May 2022 21:47:17    S.O. News Service

نئی دہلی،24؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کی ایک مقامی عدالت نے قطب مینار پر ہندو اور جین دیوتاوں کی پوجا کرنے کی اجازت دینے کی درخواست پر اپنا فیصلہ 9 جون کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔عرضی گزاروں نے ساکیت کی عدالت میں جین دیوتا تیرتھنکر رشبھ دیو اور ہندو دیوتا کے معاملے میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ محمد غوری کی فوج کے کمانڈر قطب الدین ایبک کے ہاتھوں 27 ہندو مندروں کو مسمار کیا گیا تھا اور مسمار کیے گئے مندروں کے مواد کوپھر سے استعمال کرکے قوۃ الاسلام مسجد کی تعمیرکی گئی تھی۔

درخواست گزار نے یہ بھی دعوی کیاتھا کہ کمپلیکس میں شری گنیش، وشنو اور یکشا سمیت متعدد ہندو دیوتاوں کے واضح اشکال موجود ہیں اور مندر کے کنووں کے ساتھ کلش اورپوتر کمل کے آثار بھی موجود ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کمپلیکس اصل میں ہندووں کی جگہ تھی۔انہوں نے مرکزی حکومت سے ٹرسٹ بنانے اور مندر کے احاطے کا انتظام سونپنے اور دیوتاوں کی پوجا کرنے کی اجازت مانگی ہے۔

درخواست گزاروں نے اپنی درخواست میں کہا کہ عدالت کے اگلے حکم تک بھگوان گنیش کی دونوں مورتیوں کو قطب مینار کمپلیکس سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ بارہویں صدی میں بنائے گئے اس یادگار کمپلیکس میں دونوں مجسمے رکھے ہوئے ہیں۔ اس یادگار کو 1993 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔

’محکمہ آثار قدیمہ‘ نے داخل کیا جواب:
قطب مینار پر ہندو تنظیموں کے دعوؤں کے درمیان اے ایس آئی (محکمہ آثار قدیمہ) نے عدالت میں ایک اہم حلف نامہ داخل کیا ہے۔ اے ایس آئی نے ہندو فریق کی طرف سے قطب مینار میں پوجا کے مطالبہ کے لیے داخل کی گئی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قطب مینار ایک محفوظ ورثہ ہے اور یہاں کسی مذہب کو عبادت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اے ایس آئی نے مزید کہا کہ اس کی شناخت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

اے ایس آئی نے عدالت میں داخل اپنے حلف نامہ میں کہا کہ قطب مینار کو 1914 سے ایک محفوظ ورثہ کا درجہ حاصل ہے۔ ایسے میں یادگار میں عبادت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسے محفوظ قرار دیئے جانے کے بعد سے یہاں کبھی عبادت نہیں ہوئی۔

اے ایس آئی نے مزید کہا کہ ہندو فریق کی درخواستیں قانونی طور پر درست نہیں ہیں۔ اے ایس آئی نے کہا کہ پرانے مندر کو گرا کر قطب مینار کمپلیکس کی تعمیر ہوئی تھی یا نہیں یہ تحقیق کا موضوع ہے۔ حلف نامے کے مطابق چونکہ قطب مینار کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ اور یہاں عبادت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آثار قدیمہ قانون 1958 کے محفوظ ورثہ کے مطابق محفوظ یادگار میں صرف سیاحت کی اجازت ہے۔ کسی مذہب کی عبادت کی اجازت نہیں۔


Share: