نئی دہلی، 20 اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سوشل میڈیا پروفائلز کو آدھار کارڈ سے منسلک کرنے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے منگل کو مرکزی حکومت، ٹوئٹر، گوگل اور یو ٹیوب کو نوٹس جاری کیا ہے۔ملک بھر کی اعلی عدالتوں میں زیر التوا پڑیں درخواستوں کو سپریم کورٹ میں ٹرانسفر کرنے کو لے کر فیس بک کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی۔اس معاملے کی اگلی سماعت اب 13 ستمبر کو ہوگی۔سماعت کے دوران فیس بک کی جانب سے پیش سینئر وکیل مکل روہتگی نے کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ملک میں دو قانون نہیں ہو سکتے۔اس دوران حکومت کی جانب سے مجوزہ ترمیم بل اور حکومت کی منشا پر بھی سوال اٹھائے گئے۔وہاٹس ایپ کی جانب سے کپل سبل نے کہا کہ اہم معاملہ تو وہاٹس ایپ سے منسلک ہے،یہ سب مسائل حکومت کی پالیسی سے متعلق ہیں، لہذا ان سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور ان ریفارمس سے جڑے معاملات کو سپریم کورٹ اپنے یہاں ٹرانسفر کر سماعت کرے، یہ پورے ملک کی عوام کی رازداری سے منسلک ہے۔بتا دیں کہ فیس بک اور وہاٹس ایپ کو آدھار سے لنک کرنے کا معاملے میں کل چار عرضیاں داخل ہیں۔مدراس میں دو، اڑیسہ اور ممبئی میں ایک ایک عرضی داخل ہے۔اس معاملے کی سماعت کے دوران فیس بک اور وہاٹس ایپ کی جانب سے کہا گیا کہ ہمیں کئی قوانین دیکھنا پڑتا ہے، کیونکہ کروڑوں یوزر اپنے اپنے حساب سے ان پلیٹ فارم کو یوز کرتے ہیں۔سماعت کے دوران وہاٹس ایپ کی جانب سے کہا گیا کہ مدراس ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت نے حلف نامہ دائر کر کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اور جلد گائیڈ لائن جاری کرے گی۔کپل سبل نے کہا کہ مرکزی حکومت کی پالیسی سے متعلق معاملے کو ہائی کورٹ کس طرح فیصلہ کر سکتا ہے؟ یہ پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔وہاٹس ایپ کی جانب سے کہا گیا کہ تمام معاملات کو سپریم کورٹ میں ٹرانسفر کیا جائے،سپریم کورٹ ان معاملات کی سماعت کر تصفیے کرے۔نریندر مودی حکومت کی جانب سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہاکہ حکومت کے پاس ایسا طریقہ نہیں ہے، جس سے میسج یا پوسٹ کی شروعات کرنے والے کا پتہ لگایا جا سکے۔خاص طور پر مجرمانہ رجحان والے پوسٹس پر۔انہوں نے کہا کہ اب بلیو وہیل جیسے خطرناک کھیل بھی کیسے روکے جائیں؟ اس پر جسٹس دیپک گپتا نے کہا کہ بلیو وہیل سے ڈارک ویب زیادہ خطرناک ہے۔