ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / غیر قانونی میگنیز ایکسپورٹ معاملے کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی کا قیام۔ریاستی حکومت کا اقدام

غیر قانونی میگنیز ایکسپورٹ معاملے کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی کا قیام۔ریاستی حکومت کا اقدام

Fri, 19 Jan 2018 20:30:53    S.O. News Service

بنگلورو19،؍جنوری (ایس او نیوز)سال 2006سے 2011کے دوران گوا اور کرناٹک کی بندرگاہوں سے غیر قانونی طور پر میگنیزبیرونی ممالک کو ایکسپورٹ کی تحقیقات کامعاملہ جسے سی بی آئی ناکافی ثبوت کا حوالہ دے کر بند کردیا تھا ،اس کی ازسرنو جانچ کے لئے ریاستی حکومت نے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT)تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیاسی حلقوں میں اسے مستقبل قریب میں درپیش اسمبلی انتخابات کے پیش نظرریاستی حکومت کی جانب سے بی جے پی کونشانے پر لینے والا اقدام قرار دیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ مرکز میں یو پی اے کی حکومت کے دوران گوا کی پاناجی اور مارمو گوا بندرگاہوں نے سے غیر قانونی میگنیز کی تحقیقات کا معاملہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر سی بی آئی کو سونپا گیا تھا۔لیکن بعد میں سی بی آئی نے اس معاملے سے یہ کہتے ہوئے ہاتھ اٹھا لئے تھے کہ اس معاملے پکّے شواہد موجود نہیں ہیں۔

اب ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے کی جانچ کے لئے ریاستی پولیس کی ایک اسپیشل ٹیم بنائی جائے۔ اس معاملے میں کسی قسم کے سیاسی پہلو ہونے کی بات سے انکار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ اس وقت کے ریڈی برادران جیسے جیلوں میں بند بی جے پی کے وزرأ کو بچانے کے لئے سی بی آئی نے ابتدائی مرحلے میں ہی کیس کو بند کردیا تھا۔اور اس کے پیچھے مقصد یہ تھادرپیش انتخابات میں بی جے پی کو فائدہ پہنچے۔حالانکہ ابتدائی رپورٹ میں غیرقانونی طورپر میگنیز ایکسپورٹ کے تعلق کافی شواہد موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم ایس آئی ٹی کے ذریعے جانچ کروانے پر مجبور ہوئے ہیں کیونکہ سی بی آئی نے قانونی طریقے سے جانچ کاکام انجام نہیں دیا ہے۔‘‘

ریاستی وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے کہا کہ ایس آئی ٹی سے جانچ کا فیصلہ سی بی آئی کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی کیا گیا ہے۔اب ایس آئی ٹی کو منگلورو اور کاروار بندرگاہوں سے بھی غیر قانونی طور پر میگنیز ایکسپورٹ کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔اس معاملے کی جانچ لوک آیوکتہ نے سال 2010 -11میں کی تھی جس کے دوران پتہ چلا تھا کہ 12,228کروڑ روپوں سے زیادہ مالیت والامیگنیزغیر قانونی طور پر ایکسپورٹ کیاگیا ہے۔ لوک آیوکتہ کی اس رپورٹ میں بشمول اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا، بی جے پی کے کئی وزرأ کو اس ریکیٹ میں ملوث بتایا گیا ہے۔تحقیقات کے بعدایڈی یورپا اور جناردھن ریڈی پر کیس چلا تھا۔جس میں ایڈی یورپا اور ان کی فیملی کومیگنیز کے غیر قانونی ایکسپورٹ سے رشوت ملنے کے الزام سے 2016میں عدالت نے بری کردیا تھا۔سی بی آئی نے ابھی تک اس فیصلے خلاف اپیل داخل نہیں کی ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ جگناتھ ریڈی ضمانت پر جیل سے رہا ہوگئے ہیں مگر سی بی آئی ان پر ابھی بیلاری میں غیر قانونی میگنیز ایکسپورٹ کا ریکیٹ چلانے کے لئے مقدمہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ ایڈی یورپا کو بی جے پی کی طر ف سے2018 کے الیکشن میں وزارت اعلیٰ کا امیدوار سمجھا جاتا ہے۔اس پس منظر میں ریاستی حکومت کے اس تازہ اقدام کو سیاسی چشمے سے دیکھنے پر انتخابی کرتب بازی کا پہلو نکلنا کچھ غیر فطری بات نہیں ہے۔
 


Share: