غزہ ، 16؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی)اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں کا سلسلہ مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت شہید افراد کی تعداد 132 ہوچکی ہے۔ روئٹرز کے مطابق امریکی اور عرب سفارتکاروں کی جانب سے کشیدگی کے خاتمے کے مطالبات کے باوجود صہیونی ہٹ دھرمی جاری ہے ،اور جنگی جہازوں کے غزہ پر فضائی حملے جاری ہیں۔مقامی افراد نے کہا کہ اسرائیلی بحریہ نے بحیرہ روم سے شیلز فائر کیے، تاہم کوئی بھی محصور پٹی پر نہیں لگا۔ حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے بھی جاری ہیں۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو عزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد شہید ہوگئے۔ اے ایف پی نے فلسطینی طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابو خطاب کے خاندان کے آ ٹھ بچے اور دو خواتین اس وقت شہیدہوئے، جب اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں شیٹی پناہ گزین کیمپ میں ایک تین منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی۔ فلسطینی وزارت مذہبی امور نے کہا کہ اسرائیلی جہازوں کی بمباری سے مسجد شہید ہوگئی، ملٹری ترجمان کا کہنا تھا کہ آرمی رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے۔
فلسطین کے طبی حکام کا کہنا تھا کہ غزہ میں پیر سے اب تک 32 بچوں اور 21 خواتین سمیت 132 افراد شہید اور 950 زخمی ہو چکے ہیں۔اسرائیلی حکام نے کہا کہ راکٹ حملوں سے شہید ہونے والے 8 افراد میں 2 بچوں سمیت 6 شہری بھی شامل ہیں۔ اتوار کو اس تمام صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل بائیڈن انتظامیہ کے ایلچی ہادی امر اسرائیل روانہ ہوئے۔اسرائیل میں امریکی سفارتخانے نے بیان میں کہا کہ تمام کوششوں کا مقصد پائیدار امن کے لیے کام کرنے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔
دوسری جانب غزہ میں اسرائیل نے فلسطینی عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کی سرنگوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے جبکہ غزہ سے اسرائیلی شہروں پر راکٹ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ قبل ازیں جمعے کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور عزہ کے درمیان لڑائی فوراً بند کرنے کی اپیل کی تھی۔ گوتریس نے خبردار کیا تھا کہ جاری تنازعہ کنڑول سے باہر سکیورٹی اور انسانی بحران پیدا کر سکتا ہے جو کہ شدت پسندی کو نہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل میں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے خطے میں بڑھاوا دے گا۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق انتونیو گوتریس نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ مصالحتی عمل کو تیز ہونے دیں اور لڑائی فوری بند کریں۔