نئی دہلی،24؍جولائی (ایس او نیوز؍یو این آئی) حالیہ برسوں میں معصوم بچیوں کے ساتھ آبروریزی کے پر تشدد اور سفاکانہ واقعات کے بڑھتے معاملات پر قدغن لگانے کے مقصد سے ایسے جرائم میں پھانسی تک کی سزا کے التزام والے مسودہ قانون کو آج لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجونے مجرمانہ قانون (ترمیمی) بل2018ایوان میں پیش کیا۔ یہ بل مجرمانہ قانون (ترمیمی) آرڈیننس2018کی جگہ لے گا جو21اپریل کو نافذ کیا گیا تھا۔اس بل کی دفعات کے مطابق12سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں کم از کم20سال کی سخت قید اور زیادہ سے زیادہ سزائے موت دی جا سکے گی ۔16سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ آبروریزی کے معاملات میں کم سے کم20سال کا التزام کیا گیا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ سزا تاعمر قید کے ساتھ جرمانہ ہوگی۔ اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں کم از کم سزا تاعمر قید کی ہوگی ساتھ ہی جرمانہ بھی لگایا جائے گا ۔کسی بھی عمر کی خواتین کی عصمت دری کے خلاف قانون کو سخت بناتے ہوئے ،کم از کم 7سال کی قید سے بڑھاکر10سال کرنے کا التزام کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ، منہ کالا کرنے کے تمام معاملات میں معلومات حاصل کرنے کے 2مہینے کے اندر اندر پولیس کے ذریعہ تحقیقات کو مکمل کرنا لازم کیا گیا ہے ۔ ان معاملوں میں عدالتی کارروائی بھی 2 مہینے میں مکمل ہوگی۔ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت6ماہ میں مکمل کی جائے گی۔16سال سے کم عمر کی لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کے معاملے میں پیشگی ضمانت بھی منظور نہیں کی جائے گی۔بل میں کہا گیا ہے کہ ان معاملات میں جرمانہ متاثرہ کو ملے گا اور یہ کم از کم اتنا ہو کہ متاثرہ کا علاج اور بازآباکادری کے اخراجات کی تلافی ہوسکے ۔