بنگلورو،29/اپریل (ایس او نیوز) چنچولی اور کندگول اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں امیدوار کے انتخاب کے معاملے میں بی جے پی کو اندرونی بے چینی کا سامنا ہے- بی جے پی کی کور کمیٹی نے بی ایس ایڈی یورپا کے رشتہ دار ایس آئی چکنا گوڈا کو کندگول حلقے سے میدان میں اتارنے مرکزی لڈر شپ سے سفارش کی ہے- اسے بنیادی سطح پر مخالفت کا سامنا ہے اور پارٹی ورکر استدلال کررہے ہیں کہ ان کے بجائے ایم آر پاٹل کو میدان میں اتارا جائے- بی جے پی کے لیڈر پرکاش گوڈا، وی پاٹل نے سوشیل میڈیا کے ذریعے پارٹی لیڈرشپ سے گزارش کی ہے کہ وہ حلقے کی زمینی رپورٹ حاصل کرے- پاٹل نے ٹوئیٹر پر لکھا ”ورنہ ہم یہ حلقہ کھودیں گے-“ دیگر لیڈر سونش مٹھ شدھو اور روی کمار یا بیوال نے بھی نہیں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایم آر پاٹل ایک اچھے امیدوار ہیں مگر ہمارے ریاستی لیڈر انہیں ایک موقع نہیں دے رہے ہیں -“ ریاستی لیڈروں کا تاہم استدلال ہے کہ کندگول سیٹ کے لئے چکنا گوڈا کی سفارش اس لئے کی گئی ہے کہ وہ گزشتہ سال ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے شیولی سے صرف 634ووٹوں سے ہارے تھے- چنچولی کے لئے پارٹی کی کور کمیٹی نے ابتداء میں رمیش مادھو کے بھائی رام چندر جادھو کے نام کی سفارش کی - امیش نے بعد ازاں اپنے بیٹے اویناش کو ٹکٹ دلانے لابی چلائی- بی جے پی کانگریس پر موروثی سیاست کرنے کا الزام لگاتی ہے- لیکن امیش کے بیٹے کو میدان میں اتارنے سے پارٹی کو جھٹکا لگنے کا کچھ لیڈروں نے خوف ظاہر کیا ہے- درحقیقت بی جے پی کے قومی نائب سکریٹری (تنظیمی) سنتوش نے حال میں کہا تھا کہ پارٹی ڈی این اے اور خاندان کی بنیاد پر ٹکٹ نہیں دے سکتی- یہ بیان اس سوال کے جواب میں تھا کہ کس لئے مرکزی وزیر اننت کمار کی بیوی کو بنگلور جنوب حلقہ سے ٹکٹ نہیں دیا گیا- کہا جاتا ہے کہ سابق وزیر سنیل وجیاپورے جنہوں نے چنچولی سے ٹکٹ مانگا تھا وہ ناراض ہیں - گزشتہ سال انہوں نے جادھو کے خلاف ناکام مقابلہ کیا تھا-