ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شیوسینا، جنتادل-متحدہ نکلے تو بڑھیں گی بی جے پی کی مشکلیں

شیوسینا، جنتادل-متحدہ نکلے تو بڑھیں گی بی جے پی کی مشکلیں

Sun, 10 Jun 2018 23:10:29    S.O. News Service

نئی دہلی ،10؍جون (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) شیوسینا اور جنتا دل (یو) کے موجودہ تیوروں کو دیکھتے ہوئے اگر وہ دونوں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف متحرک ہو رہی پارٹیوں کے ساتھ کھڑی ہو جاتے ہیں تو اسے اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کے لئے اتحادی ڈھونڈنے اور مرکز میں حکومت بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں 282 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کی تھی۔انہوں نے اتحادیوں کو ساتھ لے کر مرکز میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومت بنائی تھی۔

اس وقت 18 نشستوں کے ساتھ شیوسینا اور 15 سیٹوں کے ساتھ تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اس کے دو بڑی حلیف پارٹیاں تھیں.ان میں سے ٹی ڈی پی نے بی جے پی سے ناطہ توڑ لیا ہے جبکہ شیوسینا اگلا عام انتخابات بی جے پی سے الگ ہو کر لڑنے کی بات کہہ رہی ہیں. حال میں پال گھر پارلیمانی سیٹ کے ضمنی انتخاب اس نے بی جے پی کے خلاف لڑا تھا اگرچہ اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں جنتا دل ( متحدہ ) بی جے پی کے ساتھ نہیں تھی۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے بعد میں بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملا کر ریاست میں مشترکہ حکومت بنائی اور اب ان کی پارٹی این ڈی اے کا حصہ ہے۔جنتادل متحدہ نے اگلے عام انتخابات کے لیے ریاست کی 40 سیٹوں میں سے 25 اس کو دینے کا مطالبہ کرکے بی جے پی کے لیے مشکل پیدا کر دی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے ریاست میں 22 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ اس کے اتحادیوں لوک جن شکتی پارٹی کو چھ اور آرایل ایس پی کو تین سیٹیں ملی تھیں۔

مرکز میں بی جے پی کا ساتھ دے رہی دیگر اہم پارٹیوں کی بات کریں تو لوک جن شکتی پارٹی اور آرایل ایس پی کے علاوہ اکالی دل کے پاس چار، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس تین اور اپنا دل کے پاس دو نشستیں ہیں۔

الگ الگ ریاستوں کی پوزیشن پر نظر ڈالیں تو شیوسینا اور جنتا دل متحدہ کے الگ ہو جانے پر بی جے پی کو کوئی بڑی حلیف پارٹی ڈھونڈنے کے لالے پڑ سکتے ہیں۔ جن دس اہم ریاستوں میں بی جے پی کا کانگریس سے براہ راست مقابلہ نہیں ہے وہاں موجودہ حالت میں ایسی کوئی پارٹی نظر نہیں آتی جس سے بی جے پی ہاتھ ملا سکے۔ان ریاستوں میں لوک سبھا کی قریب 350 سیٹیں ہیں اور یہاں بی جے پی کی خراب کارکردگی اس کے لیے اگلے سال حکومت بنانے میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ان ریاستوں میں بی جے پی کو 140 سے زائد سیٹیں ملی تھیں جو اسے ملی کل نشستوں کی آدھی ہیں۔ اس کے اتحادیوں کو ان ریاستوں میں 40 سے زائد سیٹیں ملی تھیں۔


Share: