ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شیواجی نگر کی صفائی میں لاپروائی ناقابل برداشت، بعض علاقوں میں صفائی نہ ہونے کی شکایت پر رکن اسمبلی رضوان ارشد کی وارننگ

شیواجی نگر کی صفائی میں لاپروائی ناقابل برداشت، بعض علاقوں میں صفائی نہ ہونے کی شکایت پر رکن اسمبلی رضوان ارشد کی وارننگ

Fri, 06 Nov 2020 10:59:08    S.O. News Service

بنگلورو،6؍نومبر(ایس او نیوز) شہر کے شیواجی نگر علاقے میں صفائی کے اہتمام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی برتنے نہیں دی جائے گی اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ حلقہ کے ہر ایک محلہ میں صفائی کا کام معمول کے مطابق روزانہ جاری رہے۔ یہ بات رکن اسمبلی رضوان ارشد نے حلقہ میں آنے والے بھارتی نگر اور آ س پاس کے علاقوں کا معائنہ کرنے کے بعد کہی۔

اس علاقہ میں آنے والے بعض اکثریتی فرقہ کی آبادی والے محلوں میں صفائی کا کام روک دئیے جانے کی افواہوں اور سوشیل میڈیا پر اس سلسلہ میں ویڈیو وائرل کئے جانے کے بعد انہوں نے علاقے کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ اس ویڈیو کو وائرل کرنے والے عناصر کے خلاف انہوں نے شہر کے بھارتی نگر اور سمپنگی رام نگر پولیس تھانوں میں الگ الگ ایف آئی آر درج کروائے ہیں اور پولیس حکام سے گزارش کی ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر نے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے اکثریتی طبقہ کے محلوں میں صفائی کے کام کوروک دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ا س کے علاوہ ان سے منسوب کر کے ایک اور افواہ یہ بھی اڑا دی گئی تھی کہ اس علاقہ میں آنے والے ایک چرچ کو منہدم کرنے کے لئے انہوں نے حکام کو ہدایت دی ہے۔ اس لئے انہوں نے چرچ پہنچ کر یہاں کے ذمہ داروں کو یہ تیقن دلایا کہ اس طرح کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔رضوان ارشد نے کہا کہ ان سے منسوب کرکے اگر آئندہ غلط خبریں سوشیل میڈیا کے ذریعے عام کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے لئے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی انہوں نے پولیس حکام سے گزارش کی ہے۔ رضوان ارشد نے بتایا کہ گرجا گھر کو منہدم کرنے کی افواہ پھیلا دئیے جانے سے علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی تھی اور پولیس فورس بھی متعین ہو گئی۔ تاہم رکن اسمبلی نے علاقے میں پہنچ کر لوگوں کو تیقن دلایا کہ گرجا گھر کو منہدم کرنے کی کوئی تجویز حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔ اس معائنہ کے دوران کارپوریٹر شکیل احمد، بی بی ایم پی اور دیگر ایجنسیوں کے افسربھی موجود تھے۔


Share: