لکھنؤ،28دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا رابع حسنی ندوی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) واپس لے یا پھر اس میں مسلمانوں کو بھی شامل کیا جائے۔خبررساں ایجنسی اے آئی این ایس کے مطابق مولانا رابع حسنی نے کہا، ”سی اے اے ملک کے حق میں مناسب نہیں ہے۔ اس قانون سے ملک میں انتشار پھیل گیا ہے۔ اس قانون کے تحت دی جانے والی سہولت سے مسلمانوں کو باہر رکھنے سے سیکولرزم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔“مولانا رابع حسنی نے مزید کہا کہ ”سی اے اے سے ہمارے ملک کی ساکھ بھی دنیا بھر میں متاثر ہو رہی ہے۔ ہماری جمہوریت میں ہر شخص کو احتجاج کرنے کا اختیار ہے لیکن لوگوں کو پرتشدد اور اشتعال انگیز سرگرمیوں سے دور رہنا چاہئے۔“واضح رہے کہ 16 دسمبر کو لکھنؤ کے 121 سالہ قدیم دار العلوم ندوۃ العلماء کے طلباء نے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) طلباء کے خلاف پولس کی جابرانہ کارروائی اور سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔طلباء اپنے ہاسٹل سے نکل کر احتجاج کر رہے تھے جنہیں گیٹ پر پولس نے روک لیا تھا۔ روکے جانے کے بعد طلباء مشتعل ہو گئے اورپتھر بھی پھینکے جانے لگے۔ اس کے بعد پولس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کی۔ ندوہ کے طلباء کو گیٹ پر روکنے کی کوشش کررہی پولس کی تصویر بین الاقوامی سطح پر کافی وائرل ہوئی تھی اور امریکہ سمیت دنیا کے متعدد بڑے اخباروں نے اس تصویر کو اپنے صفحہ اول پر جگہ دی تھی۔