نئی دہلی،18؍اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سی بی آئی اب بالی ووڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے کی جانچ کررہی ہے- سی بی آئی اس معاملے میں اب تک بہت سارے لوگوں کے بیانات ریکارڈ کر چکی ہے- سی بی آئی اب سشانت راجپوت کے موبائل فون اپنے قبضے میں لینے کے لئے ممبئی پولیس کو خط لکھ رہی ہے- تفتیشی ایجنسی سشانت کا موبائل چیک کرنا چاہتی ہے، تاکہ اس کے واٹس ایپ میسج کو چیک کیا جاسکے- نیز یہ بھی معلوم کیا جاسکے کہ آیا اس کے موبائل میں کسی بھی طرح کا کوئی اکاؤنٹ تھا- موبائل فون اس معاملے سے متعلق ایک اہم ثبوت ثابت ہوسکتا ہے-واضح رہے کہ اداکار کی موت کے بعد تیار کی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایک اہم معلومات نہیں دی گئی ہے، جو ان کی موت کا وقت ہے- سشانت کے والد کے وکیل وکاس سنگھ نے یہ بات کہی ہے- اس بات کو منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی ممبئی پولیس کی تحقیقات کے بارے میں ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں - وکاس سنگھ نے کہاکہ میں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دیکھا ہے کہ موت کے وقت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، جو ایک اہم معلومات ہے- کیا سشانت کو قتل کرنے کے بعد پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا یا وہ پھانسی سے ہلاک ہوگئے تھے- موت کے وقت سے بہت کچھ معلوم کیا جاسکتا ہے- ممبئی پولیس اور کوپر اسپتال کو ان سوالوں کا جواب دینا ہوگا - اس معاملے میں حقیقت جاننے کے لئے سی بی آئی جانچ کی ضرورت ہے-انہوں نے مزید کہاکہ میرے خیال سے ریاستی حکومت ممبئی پولیس کو اپنا کام نہیں کرنے دے رہی ہے- ایسے ہائی پروفائل معاملات میں سیاستدان مداخلت کرتے ہیں اور وہ پولیس کی تحقیقات میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں - وکاس سنگھ سشانت سنگھ راجپوت کے والد کے کے سنگھ کے وکیل ہیں جو مہاراشٹرا حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ رہے ہیں -