ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سری نگر کی مرکزی جیل میں بند قیدیوں کے پاس 300 موبائل،کال کے ذریعے بنایا جا رہا ہے بنیاد پرست:رپورٹ

سری نگر کی مرکزی جیل میں بند قیدیوں کے پاس 300 موبائل،کال کے ذریعے بنایا جا رہا ہے بنیاد پرست:رپورٹ

Mon, 26 Feb 2018 12:36:28    S.O. News Service

سرینگر ،25؍ فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جموں وکشمیرکے سری نگر کی ہائی سیکورٹی والی مرکزی جیل میں تقریباََ300غیر مجاز موبائل فون استعمال کئے جانے کا پتہ چلا ہے۔صاف ہے کہ قیدیوں کے لئے یہ بہت اچھاہے۔ایک سرکاری رپورٹ میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جیل کے اندر معمولی مجرموں اور زیرالتواء قیدیوں کو بنیاد پرست بنایا جا رہا ہے۔یہ بھی ایک خطرہ ہے۔اس رپورٹ کو وقتا فوقتاً جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ بھیجا گیا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔گزشتہ چھ فروری کو لشکر طیبہ کا ایک دہشت گرد، پاکستان کا رہنے والا محمد نوید جھاٹ دو پولیس اہلکاروں کو قتل کر کے مصروف ایس ایم ایچ ایس اسپتال سے پولیس حراست سے بھاگ نکلا تھا۔اس واقعہ کے بعد ہوئی انکوائری میں یہ مسئلہ سامنے آیا۔ریاست کے محکمہ داخلہ کو سونپی گئی ریاست کی خفیہ رپورٹ کے مطابق معمولی جرائم کے لئے جیل میں بند نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے کا اڈہ بن گئے جیل احاطے میں تقریبا 300موبائل فون کا استعمال ہو رہا ہے۔اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل (قید)ایس کے مشرا نے اس رپورٹ کے بارے میں کہا کہ جیل میں ہندوستانی الیکٹرانکس کارپوریشن لمیٹڈ نے جو موبائل جیمر لگائے تھے وہ کام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ای سی آئی ایل نے جو ٹیکنالوجی اپنائی ایسا لگتا ہے وہ اب کام نہیں کرتی ہے۔جیمر ابھی سگنل یا موبائل فونز کو روک نہیں پا رہے۔جھاٹ کے فرار ہونے کے واقعہ کے بعد مشرا کو عہدے سے ہٹا کر جموں و کشمیر پولیس ہاؤسنگ کارپوریشن کا صدر جنرل منیجر بنا دیا گیا تھا۔ مشرا نے بتایا کہ اس بارے میں کئی طرح کے ڈائیلاگ کے ذریعے ریاست کے محکمہ داخلہ کو مطلع کیا گیا لیکن جیل کے حکام کو کوئی جواب نہیں ملا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہاں جہاد پر لیکچر دیے جاتے ہیں۔مذہب کے بنیادی اصولوں کو درکنار کرکے بنیاد پرستی کے پہلوؤں پر زور دیا جاتا ہے۔یہ قیدیوں پر گہرا نفسیاتی اثر ہے، خاص طور پر نوجوانوں پر۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ قیدیوں کو الگ الگ نہیں رکھا جاتا۔دہشت گردی یا علیحدگی پسندی کے الزام میں گرفتار لوگوں کے ساتھ قیدی بڑے ادب کے ساتھ پیش آتے ہیں۔قیدیوں کو ان کی وابستگی (دہشت گرد تنظیم)کی بنیاد پر بیرک مختص کی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ پرانے قیدیوں نے خود لیا ہے۔مشرا نے کہا کہ سرینگر سینٹرل جیل میں ہائی پروفائل قیدیوں کو الگ الگ رکھنا ناممکن سا ہے کیونکہ جیل کا ڈھانچہ بہت پرانا اور خراب ہے۔


Share: