ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / سرسی کے قریب کانکوپّا میں واقع موتی پیر درگاہ میں کی گئی شرپسندوں کی کارستانی کے خلاف ہزاروں مسلمانوں کا احتجاج

سرسی کے قریب کانکوپّا میں واقع موتی پیر درگاہ میں کی گئی شرپسندوں کی کارستانی کے خلاف ہزاروں مسلمانوں کا احتجاج

Tue, 10 Jan 2017 19:06:22    S.O. News Service

سرسی:10/جنوری(ایس او نیوز) تعلقہ کے ہسری روڈ پر واقع موتی پیر درگاہ کی در ودیواروں اور گیٹ پراوم اور شری رام لکھ کر مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی جو کوشش کی گئی تھی، اُس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اور شرپسندوں کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کو شہر میں ہزاروں مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر احتجا ج کیا اور اسسٹنٹ کمشنر کو متنبہ کرایا کہ تشدد پسند قوتیں  مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا کر سماجی ہم آہنگی میں بگاڑ پیدا کرنا چاہتی ہیں، احتجاجیوں نے مطالبہ کیا کہ ان شرپسندوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

شہر کے کوٹےکیرے سے ہزاروں مسلمانوں نے احتجاجی ریلی نکالی ، جو شہر کے اہم راستوں سے ہوتے ہوئے موتی پیر درگاہ میں پیش آئی واردات کی سخت مذمت کرنےو الے پلے کارڈ س تھامے اسسٹنٹ کمشنر دفتر پہنچی جہاں اے سی ،  راجو موگویر کو میمورنڈم سونپا گیا۔ اس موقع پر مرکزِ سنی حنفی کمیٹی کے صدر محمد اقبال بیلگی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسلمان ملک کے دستور کی ہمیشہ سے عزت کرتے رہے ہیں، ہندو مسلمان مل جل کررہتے ہیں، یہ دونوں طبقات انسانی جسم کی دو آنکھوں کی مانند ہیں، کسی بھی مذہب کو نقصان پہنچایا جاتاہے تو سماج کو نقصان ہوتاہے، کچھ خاص حالات میں تعلقہ کے ہوسری کی حضرت سید موتی شاہ قادری درگاہ میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی کارستانی انجام دی گئی ہے، جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، سماجی امن میں خلل ڈالنے والی جو کارستانی انجام دی گئی ہے اس معاملے کے خاطیوں کو سخت سزادی جائے۔ تاکہ مستقبل میں کوئی سرسی میں ایسی گندی حرکت نہ کرسکے۔ اور امن میں خلل نہ ہو۔ اس موقع پر عبدالقادرانوٹی، ایچ یو پٹھان، عباس تونسے، اسماعیل جوکاکو، زبیر جوکاکو، اےکے تونسے، امتیاز انوٹی سمیت کئی لیڈران موجود تھے۔

حالیہ دنوں میں کچھ تشدد پسند اور مفاد پرستوں کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے کی خاطر فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں بگاڑ پیدا کرنے والے اخباری بیان دینا، گائے کے نام پر حملہ کرنا،سوشیل نیٹ ورک پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی تصاویر کو پھیلانا، مذہبی مقامات کی بے حرمتی کرنا سمیت دین اسلام کے خلاف کارستانیاں انجام دی جارہی ہیں، اس سلسلے میں پولس تھانوں میں کیس در ج کرنےکے باوجود بھی الگ الگ طریقوں سے مسلمانوں کو مشتعل کرنےکی کوششیں جاری ہیں، اور مذہبی تشخص کو چیلنج کرتے ہوئے سماج دشمن عناصرکا  سرگرم رہنا تشویش ناک اورشرمناک ہے۔


Share: