ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سدرشن ٹی وی کے خلاف حکومت کو خودہی کارروائی کرنی چاہئے، اشتعال انگیزی کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کی کارروائی خوش آئند:رحمن خان

سدرشن ٹی وی کے خلاف حکومت کو خودہی کارروائی کرنی چاہئے، اشتعال انگیزی کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کی کارروائی خوش آئند:رحمن خان

Sat, 29 Aug 2020 11:09:38    S.O. News Service

بنگلورو،29؍ اگست (ایس او نیوز) حالیہ یو پی ایس سی امتحان میں آئی اے ایس، آئی پی ایس اوردیگر اعلیٰ عہدوں کے لئے ملک بھر سے 45 مسلم امیدواروں کا انتخاب فرقہ پرست قوتوں کی آنکھ کا کانٹا بن گیا ہے۔آر ایس ایس کی سرپرستی میں چلنے والے سدرشن ٹی وی چینل کی طرف سے مسلم امیدواروں کے اعلیٰ عہدوں پر انتخاب کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے ایک مذموم پرومو سوشیل میڈیا کے ذریعہ عام کیا ہے جس میں ملک کے معروف تعلیمی ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو جہادیوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے اس مبینہ ویڈیو میں یوپی ایس سی کے لئے منتخب مسلم امیدواروں کو جہادی قرار دیا ہے - سابق مرکزی وزیر اور کرناٹک میں کانگریس کی ضابطہ کمیٹی کے چیرمین ڈاکٹر کے رحمن خان نے سدرشن ٹی وی کے اس پرومو کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایک طرف اس پرومو میں ملک کے سب سے ہونہار نوجوانوں کے خلاف زہر اگلا گیا ہے تو دوسری طرف اس اشتعال انگیز پرومو کو سوشیل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے پرومو کے اینکر نے اسے وزیراعظم نریندرمودی کو بھی ٹیگ کیا ہے جس سے ان شرپسندوں کی جرأت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے - انہوں نے کہاکہ ایک مخصوص فرقے کو بے وجہ بدنام کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے اسے قطعاً برداشت نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ سماج میں فرقوں کے مابین نفرت پھیلانے کی مختلف دفعات کے تحت اس چینل اورپروگرام پیش کرنے والے کے خلاف کارروائی ہوجانی چاہئے تھی لیکن بدقسمتی سے اس شرانگیز ویڈیو کو وزیراعظم کے ساتھ ٹیگ کئے جانے کے باوجود وزیراعظم یا مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں ہوا ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کی خاموشی کا فائدہ یہ شرپسند عناصر اٹھارہے ہیں - انہوں نے کہاکہ اس چینل کے خلاف کارروائی کرنے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا فیصلہ خوش آئند ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کو اس کا از خود نوٹس لے کر چینل کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے تھی- انہوں نے کہاکہ یوپی ایس سی امتحان میں کامیابی کے لئے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنی زندگی کا سب کچھ داؤ پر لگاکر محنت کرتے ہیں اور آخرکار سخت مسابقت میں انہیں کامیابی نصیب ہوتی ہے - ڈاکٹر رحمن خان نے کہا کہ اس اشتعال انگیز پرومو کے ذریعے نہ صرف اس چینل نے مسلم امیدواروں کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگایا ہے بلکہ مسابقتی امتحان کرنے کے یوپی ایس سی کے نظام کی معتبریت پر بھی سوالیہ نشان لگایا ہے - اس لئے یوپی ایس سی کو بھی از خود اس متنازعہ ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنی چاہئے -اگر ان عناصر کی بازپرس کئے بغیر انہیں یونہی چھوڑ دیا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ ملک کیلئے سنگین خطرے کا سبب بن سکتے ہیں -


Share: