نئی دہلی ،12 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش کے ستنا میں پانچ سال کی بچی سے آبروریزی اور اس قتل کے مجرم سچن کی پھانسی کی سزا کو سپریم کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔سپریم کورٹ نے عمر قید کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ سچن 25 سال تک جیل میں ہی رہے گا۔25 سال سے پہلے اسے رہا نہیں کیا جائے گا۔دراصل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 2016 سچن کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔سچن نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چلنج کیا تھا۔ سال 2016 میں سپریم کورٹ کے سامنے دائر درخواست میں کہا کہ ہائی کورٹ کی طرف سے پھانسی کی سزا کی تصدیق کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لئے اسے قانوناً ملنے والا 90 دن کا وقت نہیں دیا گیا تھا اور اسے پھانسی دینے کو 30 مارچ کے لئے اس کا ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیا گیا۔آپ کو بتا دیں کہ سچن کو ستنا میں پانچ سال کی معصوم کے ساتھ ریپ اور قتل کے معاملے میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔23 فروری، 2015 کو متوفی کا بھائی اس کے اسکول پہنچانے جا رہا تھا، تبھی راستے میں گاؤں کے ہی جادو ڈرائیور سچن سنگررہا سے اس کی ملاقات ہو گئی۔لہٰذا بھائی نے سچن سنگررہا کے گاڑی میں اپنی بہن کوبٹھایا اور اس کے اسکول پہنچانے کے لئے کہہ کر گھر واپس گیا لیکن سچن نے بچی کو اسکول نہ چھوڑ کر اس کے ساتھ ریپ کر کے اس کا گلا دبا کر اس کا قتل کر دیا تھا۔