ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریلوے کی بدحالی جاری رہے گی؟

ریلوے کی بدحالی جاری رہے گی؟

Tue, 12 Jun 2018 12:13:46    S.O. News Service

نئی دہلی12؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ریلوے کے وزیر پیوش گوئل نے سیکورٹی کے ساتھ خرچ کم کرنے اور سروس میں سدھار پر ریلوے کی توجہ مرکوز ہونے کی بات کہتے ہوئے آج اشارہ دیا کہ ٹرینوں کی آمدورفت بالخصوص شمالی ہندوستان میں ٹرینوں کی تاخیر سے چلنے کی پریشانی سے جلد نجات ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔موجودہ حکومت کے دور میں وزارت ریل کی چار سالہ کارکردگی کی تفصیلات بتانے کے لئے منعقد پریس کانفرنس میں مسٹر گوئل نے کہا کہ ریلوے کی سب سے زیادہ توجہ اس وقت سیکورٹی پر ہے۔ اس کے لئے ہر اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جارہے ہیں اور کوشش ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ ٹرینوں کے کوچوں میں بھی لگائے جائیں۔ سیکورٹی میں اضافہ کے لئے ٹکنالوجی کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2013۔14 میں 118ٹرین حادثات ہوئے تھے جن کی تعداد 2017۔18میں گھٹ کر صرف73 رہ گئی۔ٹرینوں کے تاخیر سے پہنچنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سیکورٹی سے متعلق کام کا بیک لاگ موجودہ حکومت کو وراثت میں ملا ہے اور اسے پورا کرنے کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے سیکورٹی فنڈ سے ریل لائنوں کی مرمت کا کام تیزی سے ہورہا ہے۔ ٹرینوں کی آمدورفت وقت پر کرنے او رسگنل سسٹم کو سدھارنے کے لئے بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر کے بارے میں پوچھے گئے ایک دیگر سوال کے جواب میں ریلوے بورڈ کے چےئرمین اشونی لوہانی نے کہا کہ ریلوے کا فوکس سیکورٹی پر ہے۔ پچھلے اٹھارہ سال میں ٹرینوں کی تعدد تقریباً دو گنا ہوگئی ہے۔ لیکن اس دوران بنیادی ڈھانچوں کی مرمت اور رکھ رکھاؤ کا کام نہیں کیا گیا ہے۔ اب ریلوے بنیادی ڈھانچوں کو بہتر بنانے اور ان کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اور مرمت کے کام کے لیے مسافروں کو کچھ تو قیمت ادا کرنی ہی ہوگی لیکن مستقبل میں اس کا فائدہ دکھائی دے گا۔‘‘مسٹر گوئل نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کے وقت میں ٹرینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حساب سے بنیادی دھانچوں کے لیے پیسہ نہیں دیا گیا جس سے ان ڈھانچوں پر بوجھ بڑھا اور ان کی مرمت کا کام پیچھے رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2009۔2014 کے دوران ریلوے میں کی گئی سرمایہ کاری کے مقابلے میں موجودہ حکومت کے دور میں سال2019تک یہ سرمایہ کاری ڈھائی گنا ہونے کی امید ہے۔


Share: