ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاستی قانون کے مطابق بڑے جانوروں کے ذبیحہ کی اجازت بالکل نہیں، بنگلورو شہر میں متعدد جانوروں کی ضبطی کے بعد پولیس حکام کی طرف سے سخت پیغام

ریاستی قانون کے مطابق بڑے جانوروں کے ذبیحہ کی اجازت بالکل نہیں، بنگلورو شہر میں متعدد جانوروں کی ضبطی کے بعد پولیس حکام کی طرف سے سخت پیغام

Thu, 15 Jul 2021 11:22:06    S.O. News Service

بنگلورو،15؍جولائی(ایس او  نیوز)عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کیلئے شہر بنگلور میں قربانی کیلئے لائے جانے والے بڑے جانوروں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بڑے پیمانے پر شروع کردیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں پولیس حکام نے بھی کسی بھی طرح کا تعاون کرنے سے صاف انکار کردیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ ریاست میں جو انسداد گؤ ذبیحہ قانون نافذ ہے اس پر عمل میں کسی طرح کی مصالحت نہیں کی جا سکتی-

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ شہر بنگلور کے ہر پولیس تھانے میں قربانی کیلئے لائے جانے والے بڑے جانوروں کی آمد ورفت پر نظر رکھنے اور انہیں ضبط کرنے کیلئے ایک الگ ہی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے اس کی کارروائی میں مقامی پولیس کو مداخلت کا اختیار نہیں دیا گیا ہے-

حالانکہ امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی اور دیگر علمائے کرام کی طرف سے بارہامسلمانوں سے گزارش کی جا رہی ہے کہ عید قرباں کے موقع پران بڑے جانوروں کی قربانی سے گزیر کریں جن پر ریاستی حکومت نے انسداد گؤکشی قانون کے تحت پابندی لگا دی ہے- اس کے باوجود بھی بیرون شہر سے مویشیوں کو چھپ چھپا کر لانے کی کوشش میں اب تک متعد د جانوروں کو پولیس اور دیگر حکام کے علاوہ حقوق حیوانات تنظیموں کے کارکنوں نے ضبط کر لیا ہے-

گزشتہ روز شہر کے کے جی ہلی پولیس تھانے کی حدود میں 50سے زائدبڑے جانوروں کو پولیس حکام کی طرف سے ضبط کر لیا گیا- اس سلسلہ میں پولیس کی کارروائی کے بارے میں بات چیت کرنے کیلئے چہارشنبہ کو مقامی علماء اور مساجد کے ذمے دارو ں کے ایک وفد نے بانسواڑی ڈیویژن کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس جگدیش اور کے جی ہلی تھانے کے انسپکٹر سنتوش سے ملاقات کی اورتبادلہ خیال کیا- اس مرحلہ میں اے سی پی نے وفد کو دو ٹوک جواب دیا کہ ضبط شدہ جانوروں کو ان کے خریداروں کے حوالے کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا -

اس معاملہ کے بعد وفد میں شامل مولاناذوالفقار رضانوری نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی طرف نافذ قانون کو پامال کر کے اپنے لئے پریشانی نہ کھڑی کرلیں بلکہ بہتر ہے کہ جب تلک اس طرح کا قانون نافذ ہے ممنوعہ بڑے جانوروں کی قربانی سے گریز کریں -


Share: