نئی دہلی، 14 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا مظاہرہ ابھی بھی جاری ہے، کئی دنوں سے جاری احتجاج کے بعد کسانوں کا احتجاج تیز ہوگیا ہے۔ اس تحریک کو دیکھ کر مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر اور وزیر مملکت برائے زراعت سوم پرکاش نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے ساتھ بیٹھ کر معاملے کو جلد سے جلد حل کرنا چاہتی ہے۔دوسری طرف مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے زرعی قوانین پر حکومت کا موقف رکھا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو مکمل آزادی حاصل ہونی چاہئے کہ ان کی فصل ہندوستان میں کہیں بھی جاسکے، کوئی بھی اسے روکے گا نہیں۔ کسانوں کی فصلوں پر الگ سے ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ اس سال حکومت ہند نے ایم ایس پی کے تحت 60 ہزار کروڑ دھان کی خریداری کی ہے، جس میں سے 60 فیصد پنجاب سے خریدا گیا تھا۔
روی شنکر نے مزید کہا کہ آج اگر کسانوں کی تحریک کی آڑ میں بھارت کو توڑنے والے لوگ احتجاج کے کندھے پرگولی چلائیں گے تو ان کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے گی، ہم اس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔