نئی دہلی ،30؍اگست(اایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے رافیل سودے کولے کر کانگریس کو گھیرتے ہوئے کاہ کہ وہ خود گمراہ ہیں اور لوگوں کو جھوٹ پھیلا رہی ہے ۔ یہی نہیں رافیل کی قیمت پر وہ لگا تار الگ الگ بیان بھی دے رہی ہے ۔
بدھ کو جیٹلی نے بلاگ لکھ کر کانگریس پر حملہ بولا اور راہل گاندھی سے پندرہ سوال پوچھے ۔ جیٹلی نے لکھا ہے کہ کانگریس پارٹی بغیر کسی بنیاد کے سرکار پر اس ڈیل کو لے کر نشانہ سادھ رہی ہے ۔
انہوں نے لکھا کہ ایک قومی پارٹی سے اس طرح کی امید کی جاتی ہے کہ کوئی بھی الزام لگانے سے پہلے وہ حقائق کی جانچ کرے۔ یو پی اے نے اس ڈیل میں تقریباً ایک عشرے کی تاخیر کی جس کا سیدھا اثر قومی سیکورٹی پر پڑا۔
ارون جیٹلی نے کہا کہ ابھی تک اس ڈیل کے نام پر جو کچھ راہل گاندھی اور کانگریس کہہ رہے ہیں وہ سب جھوٹ ہے۔ اس طرح کے مسائل اٹھا کر کانگریس پارٹی صرف اس ڈیل کو ٹالنا چاہ رہی ہے جس کا اثر بھارت کی سیکورٹی پر پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے سرکار پوری طرح سے فیصلہ لینے میں نا اہل تھے۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ اسی سبب اتنے اہم ڈیل قریب ایک عشرے تک ٹلتی رہی ۔انہوں نے سوال داغا کہ کیا اس ڈیل میں تاخیر کے سبب ہی بھارت کی قومی سیکورٹی پر شک نہیں کھڑی ہوئی ۔
جیٹلی نے سیدھے راہل گاندھی پر بھی سوال داغا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ راہل گاندھی نے کئی بار سرکار پر الزام لگاتے ہوئے رافیل کے کے الگ الگ قیمتوں کا ذکر کیا ہے ۔ کیا راہل گاندھی کو حقائق کی معلومات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت صرف ایک ہوتا ہے لیکن جھوٹ کے کئی چہرے ہوتے ہیں۔ جیٹلی نے ارون شوری اور یشونت سنہا پر بھی نشانہ سادھا اور کہا کہ میں ’اوسر وادی راشٹر وادیوں‘ پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتاہوں۔ پہلے یہ ہمارے ساتھ ہی تھے اور اب ہماری تنقید کر رہے ہیں ۔ جب تک ان کے سیاسی کریئر کو فائدہ ملتا رہا تب تک وہ ہمارے ساتھ ہی رہے لیکن اب کیوں کہ خیالات نہیں ملتے ہیں تو ایسی بات کر رہے ہیں۔